اقوام متحدہ۔9فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور جی 77 گروپ کے چیئرمین منیر اکرم نے کہا ہے کہ وہ گروپ 77 کے چیئرمین کی حیثیت سے وسائل کو متحرک کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو غربت ، بھوک کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔انہوں نے اقوام …
کورونا وبا سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی بحالی کے لیے قرضوں کی پائیداری، خوراک کے تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے، چیئرمین جی 77 گروپ منیر اکرم
اقوام متحدہ۔9فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور جی 77 گروپ کے چیئرمین منیر اکرم نے کہا ہے کہ وہ گروپ 77 کے چیئرمین کی حیثیت سے وسائل کو متحرک کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو غربت ، بھوک کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کی جانب سے قائم کیے گئے کمیشن آن سوشل ڈویلپمنٹ کے 60ویں سیشن میں بین الاقوامی باردری پر زور دیا کہ اسے غیر متوقع اوقات میں عالمی یکجہتی اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو غربت اور بھوک سے بچانے کے لیےبین الاقوامی برادری کو لوگوں کی ترقیاتی ضروریات پر مبنی ایک ایسا عالمی ڈھانچہ اور نظام تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس میں مساوی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں ۔
منیر اکرم نے کہا کہ دنیا کو درپیش کورونا وائرس کی وبا، ترقی پذیر ممالک میں معاشی بدحالی اور موسمیاتی تباہی کے وجودی خطرےسمیت دیگر چیلنجز نے 2030 کےپائیدار ترقیاتی اہداف ایجنڈے اور اس پر عمل درآمد کی طرف پیش رفت کو الٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک کو دی گئی ٹائم لائن میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے سالانہ 3.3ٹریلین ڈالر سے 4.5ٹریلین ڈالر کی مالی مدد کی ضرورت ہے اور اس کے لیے تمام وسائل کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے جس میں 0.7فیصد سرکاری ترقیاتی امداد کے ہدف کا حصول ،650 بلین ڈالر نئے خصوصی ڈرائنگ رائٹس(ایس ڈی آرز) کی دوبارہ تقسیم اور کثیر جہتی اداروں اور ترقیاتی بینکوں سے رعایتی مالی مدد شامل ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو مالی وسائل کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی برادری کثیر الجہتی میکانزم کے ذریعے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے گرانٹس کی شکل میں فراہم کر سکتے ہیں نہ کہ ایسے قرضوں کی جو ترقی پذیر ممالک پر وبائی امراض سے جامع بحالی کے لیے زیادہ بوجھ ڈالیں۔
انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ وہ پائیدار ترقی، خوراک کے تحفظ اور قرض کی طویل مدتی پائیداری کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کریں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض سے بحالی اور پائیدار معیشتوں کی طرف منتقلی کے لیے پائیدار انفراسٹرکچر میں سالانہ 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستانی مندوب منیر اکرم نے زور دیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران زرعی تجارت سمیت فنانس، پیداوار اور تجارت کے بین الاقوامی ڈھانچے کو "منصفانہ اور مساوی” بنانے اور کورونا ویکسین کی کم قیمت پر بروقت، محفوظ ، عالمی اور مساوی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
سیشن کے آغاز میں اقتصادی اور سماجی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل لیو ژن من نے بھی زور دیا کہ کورونا وائرس کی وبا نے معاشرتی پالیسی کے اہم کردار کو اجاگرکیا ہے کیونکہ وبا کے بحران کے دوران عدم مساوات اور محرومیوں کی متعدد شکلوں میں تیزی آئی ہے لہذا بحران کے دوران سماجی تحفظ تک عالمی رسائی اور اقتصادی اور خوراک کے تحفظ کے فروغ کے لیے ٹھوس اور جامع اقدامات نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر 2020 سے مئی 2021 تک سماجی تحفظ کےمجموعی اخراجات 270فیصد بڑھ کر 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔









