اسلام آباد ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے مبینہ الزامات پر ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں 2.168 ملین ڈالر کی خورد برد پر ضیاءپرویز حسین جبکہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر سابق سیکرٹری/ ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ راجہ اکرام الحق کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے، قومی خزانے کو 2 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر کراچی ڈویلپمنٹ …
چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے مبینہ الزامات پر ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں 2.168 ملین ڈالر کی خورد برد پر ضیاءپرویز حسین جبکہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر سابق سیکرٹری/ ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ راجہ اکرام الحق کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے، قومی خزانے کو 2 ارب روپے کا نقصان پہنچانے پر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر افتخار قائم خانی، اختیارات سے تجاوز پر سابق قائم مقام چیئرمین مسابقتی کمیشن ڈاکٹر جوزفین ولسن کے خلاف انوسٹی گیشن، ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے پر وائس چانسلر شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور پروین نعیم شاہ کے خلاف انکوائری جبکہ سندھ پولیس کے بجٹ میں خورد برد میں ملوث سندھ پولیس کراچی کے افسران کی رضاکارانہ واپسی کی درخواست کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔ اجلاس میں ضیاءپرویز حسین اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملزمان پر ڈنمارک کی فرم میسرز شواہیون کے ذریعے کابینہ ڈویژن سے پانچ ہیلی کاپٹروں کا ٹھیکہ حاصل کرنے اور مجموعی طور پر 2.168 ملین ڈالر خورد برد کا الزام ہے۔








