اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رقوم کی تمام ادائیگیاں معمول کے مطابق ہوں گی اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے ، اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ سیریز کی تازہ ترین قسط میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ملکی صلاحیت پر اظہار خیال اور …
رقوم کی تمام ادائیگیاں معمول کے مطابق ہوں گی ،توقع ہے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے ، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ رقوم کی تمام ادائیگیاں معمول کے مطابق ہوں گی اور توقع ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ جائیں گے ، اسٹیٹ بینک پوڈ کاسٹ سیریز کی تازہ ترین قسط میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ملکی صلاحیت پر اظہار خیال اور بیرونی کھاتے کی کمزوریوں کے متعلق خدشات زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔
انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح کے اہم چیلنجوں میں یوکرین جنگ، اجناس کی بین الاقوامی قیمتوں میں تاریخی اضافہ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سخت زری پالیسی اہم چیلنجز ہیں۔ اس کے نتیجے میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو بین الاقوامی مالی منڈیوں سے فنڈز جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملکی محاذ پر معیشت سیلاب سے متاثر ہوئی ہے جس نے پاکستان کے لئے خاصے چیلنجز پیدا کیے۔
بحیثیت مجموعی صورتحال چیلنجنگ ہے تاہم اسٹیٹ بینک اور حکومتِ پاکستان صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2023ء میں بیرونی اسٹیک ہولڈرز کو تقریباً 33 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، جن میں جاری کھاتے کی مد میں 10 ارب ڈالر اور قرضوں کی واپسی کی مد میں 23 ارب ڈالر شامل ہیں۔ بیرونی قرضوں میں قابل ادائیگی 23 ارب ڈالر میں سے پاکستان پہلے ہی 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے قرضے واپس کر چکا ہے۔
اس کے علاوہ متعلقہ ممالک کے تعاون سے 4 ارب ڈالر کے دو طرفہ قرضے کو رول اوور کر دیا گیا ہے ۔ مزید 8.3 ارب ڈالر کے maturing واجبات رول اوور ہونے کی توقع ہے کیونکہ مذاکرات جاری ہیں۔ مالی سال کی باقی مدت میں بقیہ قابل واپسی واجبات کی مالیت تقریباً 4.7 ارب ڈالر بنتی ہے۔ ان میں 1.1 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے بھی شامل ہیں جو بیرونی بینکوں کو ادا کیے جانے ہیں ، جبکہ باقی 3.6 ارب ڈالر کثیر فریقی قرضو ں پر مشتمل ہیں۔ پاکستان کو 4 ارب ڈالر کی زرمبادلہ رقوم ( علاوہ مذکورہ 4 ارب ڈالر کے رول اوور کے) موصول ہو چکی ہیں۔ پاکستان قرضوں کی بروقت واپسی کر تا رہے گا، جبکہ رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں رقوم کی آمد میں خاصے اضافے کی توقع ہے۔
کچھ بیرونی واجبات کے رول اوور کے ساتھ توقع ہے کہ آئندہ مہینوں میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 28 نومبر تا 02 دسمبر کے ہفتے کے دوران AIIB سے 500 ملین ڈالر موصول ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 7.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک نے mature ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل سکوک اور قرضوں کی کچھ دیگر بیرونی ادائیگیوں کے ضمن میں 1,000 ملین ڈالر کی ادائیگی کی۔ لہٰذا، 02 دسمبر 2022 ء تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 6.7 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔
حکومت ایک دوست ملک کے ساتھ بھی 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جبکہ مزید مالی اعانت کے لیے کثیر فریقی ایجنسیوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قبل ازیں، مرکزی بینک نے مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر مالیت کے کمرشل قرضے واپس کیے تھے۔ توقع ہے کہ یہ بینک اتنی ہی رقم دوبارہ قرض دیں گے ، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
حکومت ایک دوست ملک کے ساتھ بھی 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جبکہ مزید مالی اعانت کے لیے کثیر فریقی ایجنسیوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ اور کثیر طرفہ ذرائع (creditors) سے قرضے لیے ہیں جبکہ غیر ملکی بینکوں سے لیا گیا قرضہ محض چند فیصد ہے۔ تمام واجبات ادا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے پاس کافی ذخائر موجود ہیں جبکہ متوقع رقوم آنے سے زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ جائیں گے۔ حکومت ایک دوست ملک کے ساتھ بھی 3 ارب ڈالر کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جبکہ مزید مالی اعانت کے لیے کثیر فریقی ایجنسیوں سے مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا رواں مالی سال کے آغاز پر اسٹیٹ بینک نے پورے مالی سال 23ء کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔ تاہم چونکہ پاکستان تاریخ کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہوا ہے، جس سے درآمدات میں اضافے کی توقعات پیدا ہوئیں، خاص طور پر گندم ، کھاد اور کپاس کی درآمدات میں۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات کے قابل فصلیں بھی سیلاب سے متاثر ہوئی ہیں۔اس کے نتیجے میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 سے 3 ارب ڈالر بڑھنے کی توقع ہے۔ تاہم بین الاقوامی مارکیٹ میں بعض اہم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جن میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بھی شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بعض پالیسی اقدامات بھی کیے ہیں جن سے رقوم کا کچھ اخراج (outflows) نمایاں طور پر کم ہوگا۔ ان پالیسی اقدامات اور دیگر اقدامات کے نتیجے میں توقع ہے کہ مالی سال 23ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 ارب ڈالر سے کم رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 22ء کی آخری سہ ماہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومتِ پاکستان نے درآمدات کو rationalize کرنے اور بیرونی اکاؤنٹس کی پوزیشن بہتر بنانے کی غرض سے چند انتظامی اقدامات کیے۔ اسٹیٹ بینک نے درآمدات پر پابندیاں عائد کیں، جو چیپٹرز 84، 85 اور 87 کے بعض اجزا میں درج ہیں۔ ان پابندیوں سے پاکستان کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 15 فیصد cover ہوتا ہے جبکہ 85 فیصد درآمدات پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں۔
چنانچہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کے تعاون سے 8 سے 10 کاروباری شعبوں کی نشاندہی کی جو حقیقی طور پر متاثر ہوئے اور انہیں ریلیف کی ضرورت تھی۔ ایسے شعبوں کو اجازت دی گئی کہ وہ جنوری تا جون 2022ء کے دوران کی گئی درآمدی ادائیگیوں کی ماہانہ اوسط کا50 سے 60 فیصد تک درآمد کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح، کچھ امپورٹرز نے ڈیمریج (demurrage) کے واقعات سے آگاہ کیا جن میں اسٹیٹ بینک کی طرف سے پابندیوں کے اجرا سے قبل درآمدات کی ایل سیز کھولی جا چکی تھیں۔اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کیا اور ادائیگیوں کا پچھلا حساب کلیئر کردیا گیا۔نیز، صنعت کے ساتھ مشورے کے بعد بھی کچھ رعایتیں دی گئیں۔
چنانچہ ملک کی 10 فیصد سے بھی کم درآمدات اس وقت انتظامی کنٹرول کے تحت ہیں۔ یہ تمام پابندیاں عارضی ہیں اور بتدریج ختم کر دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم اور دوائیں اسٹیٹ بینک کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر یا دوا سازی کے شعبے سے متعلق خام مال کی درآمد پر قطعی کوئی پابندی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں درآمدات پر انتظامی اقدامات جاری نہیں رہنے چاہئیں اور انہیں بتدریج نرم کرنے کی ہمیں ضرورت ہے۔ اگلے سال سے ہم ان کا جائزہ لیں گے اور کاروباری اداروں کو مزید آسانی فراہم کریں گے۔








