وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا ایوان بالامیں پالیسی بیان

اسلام آباد ۔21دسمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پانچ ریگولیٹری اداروں کو ان کی متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کرنے کا فیصلہ انتظامی بنیادوں پر کیا گیا ہے‘ اس کے لئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کی ضرورت نہیں تھی‘ ایک ڈویژن سے دوسرے ڈویژن میں منتقلی سے ان کی خودمختاری‘ آزادی یا دیگر امور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بدھ کو ایوان بالا …

اسلام آباد ۔21دسمبر(اے پی پی) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پانچ ریگولیٹری اداروں کو ان کی متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کرنے کا فیصلہ انتظامی بنیادوں پر کیا گیا ہے‘ اس کے لئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کی ضرورت نہیں تھی‘ ایک ڈویژن سے دوسرے ڈویژن میں منتقلی سے ان کی خودمختاری‘ آزادی یا دیگر امور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ وزیراعظم کے ایک حکم کے تحت ریگولیٹری اداروں نیپرا‘ اوگرا‘ فریکوینسی ایلوکشن بورڈ‘ پی ٹی اے ‘ پیپرا اور اوگرا کو ان کی متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کردیا گیا ہے کیونکہ ان کا بنیادی تعلق اپنی وزارتوں سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا کو پانی و بجلی ڈویژن‘ اوگرا کو پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن‘ فریکوینسی ایلوکیشن بورڈ اور پی ٹی اے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی جبکہ پیپرا کو وزارت خزانہ کے ماتحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی پالیسی معاملہ نہیں ہے جس کے لئے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری درکار ہو۔

Leave a Reply