مسجد اقصی میں کشیدگی کے بعد اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے

مسجد اقصی میں کشیدگی کے بعد اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے

مقبوضہ بیت المقدس۔7اپریل (اے پی پی): مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والے مسلمان مرد و خواتین پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے حملے اورسینکڑوں فلسطینیوں کی گرفتاری کے بعد اسرائیل نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب غزہ پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کر دیئے ہیں ۔ اسرائیلی مسلح افواج نے لبنان میں فلسطینی کیمپ پر راکٹ حملے بھی کئے ہیں۔ دوسری جانب حماس نے طویل فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹس کو ہائی الرٹ کر دیا۔

برطانوی اخبار اور روسی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نےحماس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ان راکٹ حملوں کا جواب ہےجوفلسطینی تحریک مزاحمت حماس کی طرف سے لبنان سے اسرائیل پر کئے گئے ۔ اسرائیل کی جانب سے راکٹ حملوں کی جوابی کارروائی کے اعلان کے بعد لبنان کے جنوبی علاقے صور میں جمعہ کی علی الصبح کم از کم 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔کیمپ کے ایک رہائشی ابو احمد نے بتایا کہ لبنان کے شہر صور کے قریب ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے قریب کم از کم2گولے گرے ۔ علاقے میں اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا کہ کیمپ کے قریب ایک کسان کے گھر پر ایک میزائل گرا جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے ۔

ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے چینل’’المنار‘‘ کے مطابقاسرائلی فضائی حملوں میں لبنان کے3 جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعرات کی نصف شب کو اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان میں حملے کر رہی ہے جہاں سے ایک دن پہلے اسرائیل پر34سے زیادہ راکٹ فائر کیے گئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان میں سے 25 راکٹس کو اسرائیل کے فضائی دفاع کے نظام نے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ اسرائیل نے کہا کہ یہ یقینی ہے کہ لبنان سے فائر کیے گئے راکٹ، جن کے بارے میں کسی گروپ نے دعویٰ نہیں کیا، ’فلسطینیوں کا کام تھا جو غالباً حماس یا اسلامی جہاد گروپ کی جانب سےکیے گئے ہوں۔

اسرائیلی فوج نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ غزہ میں فضائی حملے کر رہی ہے۔ فلسطینی میڈیا نے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ نے طویل فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے راکٹس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جسے اسرائیلی فوج کی بمباری کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی حملے میں ابھی تک جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے دشمنوں کو سبق سکھایا جائے گا اور انہیں اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کرنےکی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکوں سے رات کو روشنی ہوتی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس حملے کو 2006کے بعد شدید ترین کشیدگی قرار دیا ہےجب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

حماس کی طرف سے راکٹ حملے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر وہاں عبادت میں مصروف مسلمان مرد و خواتین پر تشدد کرنے اور تین سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنے کے جواب میں کئے گئے ہیں۔ مسجد اقصیٰ میں کشیدگی اسرائیل کے ایک یہودی مذہبی گروہ ریٹرن ٹو دی مائونٹ کی طرف سے مسجداقصیٰ میں گنبد صخرہ کے مقام پر بکرے کی قربانی کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوئی ۔ یہ گروہ مسجد اقصیٰ کے مقام پر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا دعویٰ کرتا ہے تاہم اردن اور اسرائیل کے درمیان مسجد اقصیٰ کے انتظامات کے حوالے سے معاہدے کے مطابق یہودیوں کو مسجد اقصی ٰ میں عبادت کی اجازت نہیں اور ماضی میں اسرائیلی حکومت ایسی کوشش کرنے والے یہودیوں کو گرفتار کرتی رہی ہے۔

مزید خبریں