حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی کامیابی کے لئے پرامید ہوں ، الیکشن تو بہر حال ہونے ہی ہیں ، صدر مملکت ڈاکٹر عار ف علوی کا نجی ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن تو بہر حال ہونے ہی ہیں ،الیکشن نہ ہونے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ، پاک فوج کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کہا گیا ہے کہ فوج غیر سیاسی ادارہ ہے، عوام خود سڑکوں پر نہیں آتے بلکہ سیاستدان آئین کے …

اسلام آباد۔2مئی (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی کامیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن تو بہر حال ہونے ہی ہیں ،الیکشن نہ ہونے کا کوئی ٹھوس جواز نہیں ، پاک فوج کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کہا گیا ہے کہ فوج غیر سیاسی ادارہ ہے، عوام خود سڑکوں پر نہیں آتے بلکہ سیاستدان آئین کے تحفظ کے لئے انھیں متحرک کرتے ہیں ۔ منگل کو یہاں ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو د یتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئین سے کسی صورت انحراف نہیں ہونا چاہیے ، یہ کہا جارہا ہے کہ الیکشن کے لئے پیسے نہیں ہیں لیکن ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر حالات خراب نہیں اور نہ ہی جنگ ہورہی ہے کہ الیکشن نہ ہو سکیں ،اس حوالے سے کوئی جواز قبول نہیں کیا جاسکتا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران بھی وقت پر انتخابات کرائے گئے یہ طرز عمل جمہوری اقدار کو مزید تقویت دیتا ہے۔ جمہوریت تب مضبوط ہو گی جب اصولوں پر کاربند رہا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے 10 ،15سال سے شفاف انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کی حمایت کر رہے ہیں لیکن اس ضمن میں متعلقہ فورم کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اسی وجہ سے ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کی آوازیں اٹھتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جو قومیں دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہیں اور اپنے مسائل حل نہیں کر پاتیں وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 250 سے زائد بل میرے پاس بھجوائے گئے ، الیکٹرانک ووٹنگ بل سمیت چند بلوں پر مجھے تحفظات تھے جو منظوری کے بغیر واپس بھجوا دیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ریاست مدینہ تونہ بن سکی لیکن سمت کا تعین ہو جانا بھی اہم ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میری اور پی ٹی آئی کی سوچ ایک ہے لیکن اس بنیاد پر میں نے اس عہدے کی تضحیک کبھی نہیں ہونے دی ہے۔