فیصل آباد۔8جون (اے پی پی):پاکستان میں کابلی چنے کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیاہے جس کے باعث ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع کردی گئی ہے جبکہ غیر ملکی درآمد پر انحصار ختم کرنے کے لئے کاشتکاروں کو کابلی چنے کا زیر کاشت رقبہ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس ضمن میں ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کو بھی خصوصی …
پاکستان میں کابلی چنے کی مانگ میں زبردست اضافہ، ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع کردی گئی

مزید خبریں
فیصل آباد۔8جون (اے پی پی):پاکستان میں کابلی چنے کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیاہے جس کے باعث ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنے کی درآمد شروع کردی گئی ہے جبکہ غیر ملکی درآمد پر انحصار ختم کرنے کے لئے کاشتکاروں کو کابلی چنے کا زیر کاشت رقبہ بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس ضمن میں ماہرین زراعت اور محکمہ زراعت کو بھی خصوصی ٹاسک سونپ دیاگیا ہے۔
جامعہ زرعیہ کے ماہرین زراعت نے بتایاکہ ملکی ضروریات میں اضافہ کے باعث چنے اور مسور کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان فصلوں کی کاشت بڑھانے سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دالوں کی درآمد کو کم کرکے زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پھلی دار اجناس ہونے کی وجہ سے چنے اور مسور کی دونوں فصلیں ہوا سے نائٹروجن حاصل کرکے زمین میں شامل کرتی ہیں جس سے زمین کی ذرخیزی بحال رہتی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ بارانی علاقوں میں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں لیکن کابلی چنے کی مانگ بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کیلئے مختلف ممالک سے کابلی چنا درآمد کیا جارہا ہے لہٰذااس کی درآمد کو کم کرنے کیلئے کابلی چنے کے زیر کاشت رقبہ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند سالوں کی نسبت مسور کی فی ایکڑ پیداو ار میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ زائد بارشیں اور جڑی بوٹیوں کی بہتات اور منظور شدہ اقسام اور جدید پیداواری ٹیکنالوجی کو نہ اپنانا شامل ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ چنے اور مسور کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے کھادوں کے مناسب اور متناسب استعمال،کیڑوں اور بیماریوں کے انسداد کیلئے جدید تحقیق کی روشنی میں جاری کردہ سفارشات پر عملدرآمد کیاجائے تاکہ پیداوار میں اضافہ کو یقینی بنایاجاسکے۔








