دستاویزی معیشت سے کاروبار میں شفافیت لانے اور درست ڈیٹا کے حصول میں مدد ملتی ہے ، مہر کاشف یونس

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ دستاویزی معیشت سے کاروباری لین دین میں شفافیت لانے، درست اعداد و شمار کے حصول اور جوابدہی کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جمعرات کو یہاں ”دستاویزی معیشت کی اہمیت“ کے موضوع پر ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں …

اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ دستاویزی معیشت سے کاروباری لین دین میں شفافیت لانے، درست اعداد و شمار کے حصول اور جوابدہی کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

جمعرات کو یہاں ”دستاویزی معیشت کی اہمیت“ کے موضوع پر ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیاں شفاف ہوں تو سرمایہ کار اور بزنس مین مارکیٹ کے حالات، خطرات اور ممکنہ منافع کا بہتر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس سے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے نیز روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ دستاویزی معیشت ان شعبوں اور خطوں کے بارے میں درست معلومات فراہم کر کے موثر مالیاتی منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس سے وسائل کو مختص کرنے، ترقیاتی اقدامات اور ترجیحات کے تعین میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاشی استحکام، ریونیو جنریشن، سرمایہ کاروں کے اعتماد، مالیاتی منصوبہ بندی، بدعنوانی کے تدارک، کریڈٹ تک رسائی اور پالیسی سازی کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی سرگرمیاں شفاف ہوں تو افراد اور تنظیموں کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونا مشکل ہو جاتا ہے اور معیشت میں دیانتداری اور انصاف پسندی کو فروغ ملتا ہے۔

مہر کاشف یونس نے کہا کہ دستاویزی معیشت سے حکومتوں، پالیسی سازوں اور کاروباری اداروں کو مختلف اقتصادی اشاریوں پر درست ڈیٹا اکٹھا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں سالانہ ایک خاص حد سے زیادہ کاروباری لین دین پر پرچون فروشوں کیلئے جی ایس ٹی کی رجسٹریشن ضروری ہے۔ جبکہ پاکستان کی معیشت کا تقریباً 50 فیصد دستاویزی نہیں ہے اور غیر رسمی معیشت کو ٹیکس حکام سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا۔ پاکستان میں 2.2 ملین پرچون فروش معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ زیادہ تر کاروباری لین دین ان پرچون فروشوں کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔

مہر کاشف یونس نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں غیر رسمی معیشت بہت کم ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید کم ہوتی جارہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

مزید خبریں