پاکستان کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل مہم کی مذمت

اقوام متحدہ۔23جون (اے پی پی):پاکستان نے حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل مہم کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کو عوام کے جائز حق خودارادیت کے حصول سے الگ کرنے،دیرینہ تنازعات کو حل کرنے اور غیرملکی قبضے کو ختم کر کے دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل …

اقوام متحدہ۔23جون (اے پی پی):پاکستان نے حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل مہم کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کو عوام کے جائز حق خودارادیت کے حصول سے الگ کرنے،دیرینہ تنازعات کو حل کرنے اور غیرملکی قبضے کو ختم کر کے دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندہ عامر خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں پر ظلم و جبر کا جواز فراہم کرنے کے لیے حق خود ارادیت اور قومی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی مسلسل مہم جاری ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے گلوبل کائونٹر ٹیررازم سٹریٹجی(جی سی ٹی ایس)کے 8ویں جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ دہشت گردی کی واضح طور پر تعریف کرنا اور اسے قومی آزادی اور خود ارادیت کے لیے جائز جدوجہد سے الگ کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہا ہے جس میں 80ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک (“Spoilers in our neighborhood ) ٹی ٹی پی ، داعش اورعسکریت پسند گروپوں کی طرف سے منصوبہ بندی اور منظم حملوں کی حمایت کے ذریعے ہمیں نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے گا اور پاکستان اس کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اقوام متحدہ، خاص طور پر سلامتی کونسل کو طویل مدتی حل طلب تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات کو حل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی کے ساتھ مل کر مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں نسل پرست، فاشسٹ اور انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے مساجد کی بے حرمتی اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے جیسی کارروائیوں کی مذمت بھی شامل ہے جو جی سی ٹی ایس کے متن میں شامل نہیں تھے۔عامر خان نےکہا کہ اشتعال انگیزی اور نفرت کی کارروائیوں کی مذمت پر خاموشی یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کو برداشت کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسے تاثر کے قائم رہنے کی نشاندہی کرتا ہے جو مسلمانوں کو بدنام کرتا ہے۔

ہم اس مسلم مخالف اقدامات کو مضبوطی سے مسترد کرتے ہیں اور اس ناقص نقطہ نظرکو چیلنج کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے نظام میں ضروری تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا تاکہ بعض مذاہب کے پیروکاروں کی بدنامی(stigmatization of followers of certain religions ) کو ختم کیا جا سکے اور نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات بشمول نسل پرستی، زینو فوبیا(غیر ملکیوں سے نفرت)، عدم رواداری، اسلامو فوبیا یا عدم رواداری کی دیگر اقسام سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ عامر خان نےکہا کہ ہمیں دہشت گردی کے نئے ٹولز، خاص طور پر سائبر ڈومین، کرپٹو کرنسیوں، دہشت گردوں کی آن لائن بھرتی اور تشدد اور غلط معلومات کے پھیلائو سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔

مزید خبریں