اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی سال 2024 کے آغاز سے لیکراب تک مالیاتی کارگردگی اطمینان بخش رہی ہے ، حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال اوردیگرمعاشی اشاریے صورتحال کی بہتری کی عکاسی کررہے ہیں، حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پر54.1 فیصد کی کمی ہوئی،ایف بی آرکے محاصل میں 27.2 فیصد کی شرح سے …
مالی سال 2024 کے آغاز سے لیکراب تک مالیاتی کارگردگی اطمینان بخش رہی ہے ، حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال اوردیگرمعاشی اشاریئے صورتحال کی بہتری کی عکاسی کررہے ہیں، وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ مالی سال 2024 کے آغاز سے لیکراب تک مالیاتی کارگردگی اطمینان بخش رہی ہے ، حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال اوردیگرمعاشی اشاریے صورتحال کی بہتری کی عکاسی کررہے ہیں، حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پر54.1 فیصد کی کمی ہوئی،ایف بی آرکے محاصل میں 27.2 فیصد کی شرح سے نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحالی کے منصوبہ اوردانش مندانہ پالیسی اقدامات بشمول خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اورآئی ٹی پالیسی سے وسط مدتی بنیادوں پر اقتصادی نمومیں اضافہ متوقع ہے۔ضروری اشیاء کی دستیابی میں بہتری اور رسد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے اقدامات سے مہنگائی کادبائو کم ہونے کاامکان ہے۔
علاوہ ازیں زرمبادلہ کی مارکیٹ میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے اٹھائے جانیوالے انتظامی اورانضباطی اقدامات کے فوائد ملنا شروع ہوگئے ہیں اوراس کے نتیجہ میں انٹربینک اوراوپن مارکیٹ میں شرح مبادلہ کے درمیان فرق بہت کم ہو گیا ہے۔حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال اوردیگرمعاشی اشاریے صورتحال کی بہتری کی عکاسی کررہے ہیں۔
ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دوماہ (جولائی۔اگست) میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4.1 ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 5.3 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 21.6 فیصدکم ہے، مالی سال کے پہلے دوماہ میں برآمدات کاحجم 4.5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 5 ارب ڈالرتھا،درآمدات میں مالی سال کے پہلے دوماہ میں 26 فیصد کی کمی ہوئی، مالی سال کے پہلے دوماہ میں درآمدات کاحجم 8.5 ارب ڈالررہا جوگزشتہ سال کی اسی مدت میں 11.5 ارب ڈالرتھا۔
حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پر54.1 فیصد کی کمی ہوئی، جولائی تااگست حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 0.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2 ارب ڈالرتھا، جاری مالی سال میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 16.1 فیصد کی نموہوئی، جولائی اوراگست 2023 میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 233.8 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 201.4 ملین ڈالرتھا،مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں 47.6 فیصد کی شرح سے نمو ریکارڈ کی گئی۔26 ستمبر2023 کوزرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 13.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 26 ستمبرکو13.7 ارب ڈالرتھا، شرح مبادلہ 288.89 روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ سال اسی تاریخ کو233.90 روپے تھا۔
اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے دوماہ میں ایف بی آرکے محاصل کاحجم 1207 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 949 ارب روپے کے مقابلہ میں 27.2 فیصدزیادہ ہے، نان ٹیکس ریونیوکی مدمیں 139.4 ارب روپے اکٹھاکئے گئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 40.8 ارب روپے کے مقابلہ میں 241.7 فیصدزیادہ ہے، وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 16 ارب روپے کے فنڈز جاری ہوئے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 5.2 ارب روپے تھے۔
مالی خسارہ کاحجم 225.3 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 210 ارب روپے کے مقابلہ میں 7.3 فیصدزیادہ ہے، بنیادی خسارہ 311.2 ارب روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 142.2 ارب روپے کے مقابلہ میں 118.8 فیصدزیادہ ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق زرعی شعبہ کوقرضہ جات کے اجراء میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پر25.2 فیصد کی نموہوئی، جولائی اوراگست میں زرعی شعبہ کو1776 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گیے جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1418.9 ارب روپے کے مقابلہ میں 25.2 فیصدزیادہ ہے۔14 ستمبر2023 کو پالیسی ریٹ 22 فیصد کی سطح پرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ سال اسی تاریخ کو15 فیصدتھا۔اگست میں صارفین کیلئے قیمتوں کاعمومی اشاریہ 27.8 فیصدریکارڈکیاگیا جوگزشتہ سال اگست میں 27.3 فیصدتھا،
مالی سال کے پہلے دوماہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کاعمومی اشاریہ27.8 فیصدریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 26.1 فیصدتھا۔27 ستمبرکو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 46365 پوائنٹس ریکارڈکیاگیا جوتین جولائی 2023 کو 43899 پوائنٹس تھا۔27 ستمبر2023 کومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 6.93 ٹریلین روپے (23.98 ارب ڈالر) ریکارڈکیاگیا جوتین جولائی 2023 کو 6.69 ٹریلین روپے(23.39 ارب ڈالرتھا۔جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر22.1 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔








