بینک ڈپازٹس بالکل محفوظ ہیں، سٹیٹ بینک کی وضاحت
بینک ڈپازٹس بالکل محفوظ ہیں، سٹیٹ بینک کی وضاحت

مزید خبریں
کراچی۔ 05 اکتوبر (اے پی پی): ڈپٹی گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر عنایت حسین کے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات اور محاصل کے اجلاس میں دئیے گئے بیان کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں 500,000روپے سے زائد کے بینک ڈپازٹس غیر محفوظ ہیں۔ یہ دوٹوک انداز میں واضح کیا جاتا ہے
کہ سٹیٹ بینک کے مضبوط ضوابطی اور نگرانی کے فریم ورک کے ماتحت پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں۔ مرکزی بینک سے جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے بینکاری نظام میں بہ کفایت سرمایہ موجود ہے، یہ بے حد فعال (لیکوئڈ)اور منافع بخش ہے جس میں خالص غیراداشدہ قرضوں یعنی خراب قرضوں کی سطح کم ہے۔
اس سیکٹر میں کیلنڈر سال 23 کی پہلی ششماہی میں 284ارب روپے کی بھرپور منافع آوری درج کی گئی جو کیلنڈر سال 22 کی پہلی ششماہی سے تقریبا 125فیصد زیادہ ہے۔ اس بلند آمدنی سے بینکوں کا سرمایہ بھی مضبوط ہوا اور شرح کفایت سرمایہ (Capital Adequacy Ratio) جون 2023 کے آخر تک بڑھ کر 17.8فیصد ہوگئی جبکہ جون 2022 کے آخر میں یہ 16.1 تھی جو اسٹیٹ بینک کی کم از کم ضروری حد 11.5 اور بین الاقوامی معیار 10.5 سے خاصی زیادہ ہے۔
ادائیگی قرض کی صلاحیت (سالوینسی)کے بفرز کی بہتری کی وجہ سے بینکاری شعبے کی شدید دھچکے برداشت کرنے کی اہلیت بھی مزید بہتر ہوگئی ہے۔بینکاری نظام کے استحکام کے علاوہ ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن (ڈی پی سی)نے تحفظ میں مزید اضافہ کیا ہے اور ہر ڈپازٹر کو 500,000 روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا ہے۔ یہ عمل بہترین بین الاقوامی طور طریقوں اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔
دنیا بھر میں بینک کی ناکامی کی صورت میں، جس کا امکان کم ہوتا ہے، ڈپازٹرز کی رقوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نگرانی کی اتھارٹیز اور ڈپازٹ کو تحفظ دینے والی ایجنسیوں کی جانب سے ڈپازٹ کا تحفظ حفاظتی نظام کے کلیدی اجزا میں شامل ہے۔
اگر بینک ناکام ہوجائے تو ڈی پی سی کی جانب سے بیمہ کردہ رقم فوری طور پر ڈپازٹرز کو دستیاب ہوتی ہے۔ تاہم جب دشواری کا شکار بینک کا ایک ضابطہ کارانہ عمل کے ذریعے تصفیہ ہوتا ہے تو ڈپازٹس کی بقیہ رقوم بھی نکلوائی جاسکتی ہیں۔ فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔








