لاہور۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ رائس ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی زرعی برآمدات کو متنوع بنانے، پائیدار میکرو مالیاتی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مسابقت و پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع، معیار کو …
زرعی برآمدات میں اضافےکےلئے پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاجر رہنما شہزاد علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔19اکتوبر (اے پی پی):پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ رائس ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی زرعی برآمدات کو متنوع بنانے، پائیدار میکرو مالیاتی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور مسابقت و پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو یہاں ترقی پسند کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع، معیار کو بہتر، مصنوعات کی برانڈنگ اور بین الاقوامی تجارتی ضوابط کی تعمیل کر کے چاول، گنے اور کپاس کی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاول کی برآمدات کے لیے کوالٹی اور سٹینڈرڈز کی پابندی اور بروقت ترسیل کو یقینی بنا کر چین، ترکی، قطر، کینیا، افغانستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی منافع بخش منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اسی طرح پاکستان اپنی ملنگ کی کارکردگی کو بہتر بنا کر اور پیداواری لاگت کو کم کر کے افریقا اور ایشیا میں نئی منڈیوں کو چینی کی برآمد میں اضافہ کر سکتا ہے۔
مزید برآں پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری کی اپ گریڈیشن، ماحولیاتی اور سماجی معیار کی پابندی اور مختلف ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھا کر کاٹن مصنوعات کی برآمدات کو بڑھا سکتا ہے۔ شہزاد علی ملک ستارہ امتیاز نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ کم میکانائزیشن، فرسودہ ٹیکنالوجی اور کمزور توسیعی خدمات سے عبارت ہے،
صرف 50 فیصد کسان ٹریکٹر استعمال کرتے ہیں جب کہ دیگر زرعی مشینری مثلا ہارویسٹر، پلانٹر اور جدید سپرے مشینیں استعمال کرنے والوں کی تعداد دس فیصد سے بھی کم ہے، نئی ٹیکنالوجیز اور زراعت کے جدید طریقوں کو اپنا کر کسان اپنی پیداواری صلاحیت اور آمدنی کو بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پانی کے فرسودہ مینجمنٹ سسٹم کی وجہ سے سالانہ تقریبا 12 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جبکہ ہم دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہیں جہاں پانی کی فی کس دستیابی 1,000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہے۔








