ہسپتالوں میں جنریٹرز کا ایندھن ختم ہونے کی صورت میں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے ، غزہ ڈاکٹرز

غزہ ۔23اکتوبر (اے پی پی):غزہ میں ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں میں جنریٹرز کا ایندھن ختم ہونے کی صورت میں بچوں کی زندگیاں خطر ے میں ہیں ۔غزہ کے امدادی ادارے چیرٹی میڈیکل ایڈ فار فلسطینی کے ڈائریکٹر فکر شلتوت نے برطانوی نشریاتی ادارےکو بتایا کہ اگر جنریٹر چلنا بند کر دیں تو وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے زندہ نہیں رہ پائیں گے۔ انہوں نے کہا …

غزہ ۔23اکتوبر (اے پی پی):غزہ میں ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ ہسپتالوں میں جنریٹرز کا ایندھن ختم ہونے کی صورت میں بچوں کی زندگیاں خطر ے میں ہیں ۔غزہ کے امدادی ادارے چیرٹی میڈیکل ایڈ فار فلسطینی کے ڈائریکٹر فکر شلتوت نے برطانوی نشریاتی ادارےکو بتایا کہ اگر جنریٹر چلنا بند کر دیں تو وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے زندہ نہیں رہ پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وارڈ میں ایک 32 ہفتے کا بچہ ہے جس کی ماں فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی تاہم ڈاکٹر بچے کی زندگی بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ماں سمیت پورا خاندان مر گیا لیکن بچہ بچ گیا جو تاحال انکیوبیٹر میں ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں میں 120 بچے انکیوبیٹرز پر موجود ہیں جن میں سے 70 ایسے نوزائیدہ بچے وینٹی لیٹرز پر ہیں جن کی پیدائش وقت سے پہلے ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ غزہ بھر میں ہسپتال ایندھن کی سپلائی سے محروم ہیں اور مختلف مشینیں اس وقت بیک اپ جنریٹرز سے منسلک ہیں جو اسرائیل سے غزہ کی بجلی کی سپلائی بند ہونے پر لگائی گئی تھیں۔ واضح رہے کہ ایندھن کے ٹرک رفح کراسنگ کے قریب دیکھے جانے کی اطلاعات تھیں تاہم اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہو سکے ہیں کہ نہیں۔