اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کا باعث بن سکتی ہے ، امریکی وزراء

واشنگٹن۔23اکتوبر (اے پی پی):امریکا کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نےخبر دار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کا باعث بن سکتی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس کے فوجیوں پر حملہ کیا گیا تو امریکا جوابی کارروائی کرے گا۔ امریکی وزرا نے کہا کہ ایران اور اس کے پراکسی اس تنازعے کو وسیع کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ اس …

واشنگٹن۔23اکتوبر (اے پی پی):امریکا کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نےخبر دار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کا باعث بن سکتی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس کے فوجیوں پر حملہ کیا گیا تو امریکا جوابی کارروائی کرے گا۔ امریکی وزرا نے کہا کہ ایران اور اس کے پراکسی اس تنازعے کو وسیع کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ اس کو روکنے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے وہ کرے گا ۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ اگر کوئی گروپ یا کوئی ملک اس تنازع کو وسیع کرنے اور اس انتہائی بدقسمتی کی صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو ہمارا مشورہ ہے کہ وہ ایسا نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مناسب کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔

سی بی ایس نیوز کو انٹرویو میں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن سے یہ سوال کیاگیا کہ کیا بہت زیادہ کشیدگی واشنگٹن کو امریکی اہلکاروں کو علاقے سے نکالنے پر مجبور کر سکتی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ایرانی پراکسیز کے امکان پر تشویش ہے، جو ہمارے اپنے اہلکاروں، اپنے ہی لوگوں کے خلاف ان کے حملوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر اقدام کر رہے ہیں کہ ہم ان کا دفاع کر سکیں اور اگر ضروری ہو تو فیصلہ کن جواب دیں ۔خطے سے امریکی اہلکاروں کے انخلا کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا مزید کشیدگی نہیں چاہتا لیکن اگر کوئ اور کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے تو امریکا اس کو جواب دینے کےلئے تیار ہے۔

این بی سی نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے اس اندیشہ کا اظہار کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی طرف سے ہماری افواج اور ہمارے اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ ہمارے لوگوں کا مؤثر طریقے سے دفاع کیا جا سکے اور اگر ہمیں ضرورت ہو تو فیصلہ کن جواب دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل حماس کے 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے موجود صورتحال کو بحال نہیں کرنا چاہتا، وہ جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ پر حکومت نہیں کرنا چاہتا تھا اس صورت حال میں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایسی کارروائی دوبارہ نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ حماس فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ دونوں امریکی وزرا نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ اسے دوبارہ 7 اکتوبر جیسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے، اپنی زمینی کارروائی جاری رکھے گا لیکن لیکن وزیر خارجہ لائیڈ آسٹن نے تسلیم کیا کہ اسرائیل کے لیے یہ مشکل ہو گا۔