اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر اور کرغزستان ٹریڈ ہائوس کے چیئرمین مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی میں استحکام پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اتوار کو یہاں گولڈ رِنگ اکنامک فورم کے زیراہتمام ’مانیٹری پالیسی میں استحکام کے فوائد‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے …
مانیٹری پالیسی میں استحکام پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے، مہر کاشف یونس

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر اور کرغزستان ٹریڈ ہائوس کے چیئرمین مہر کاشف یونس نے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی میں استحکام پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
اتوار کو یہاں گولڈ رِنگ اکنامک فورم کے زیراہتمام ’مانیٹری پالیسی میں استحکام کے فوائد‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقل اور شفاف مانیٹری پالیسی فریم ورک کو برقرار رکھ کر اقتصادی ترقی و خوشحالی کی مضبوط بنیاد رکھی جا سکتی ہے کیونکہ اس سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور جدت کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی پالیسی میں استحکام اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں ادا کرتا ہے۔
باہم مربوط عالمی معیشت میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مستحکم مانیٹری پالیسی فریم ورک کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل شرح سود اور مالیاتی انتظام میں استحکام معاشی ترقی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم معاشی حالات میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے طویل مدتی سرمایہ کاری، کاروباری آپریشنز کو وسعت دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
معاشی ماحول میں یہ اعتماد انٹرپرینیورشپ اور اختراع کو تحریک دیتا ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مجموعی اقتصادی خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔ مہر کاشف یونس نے مزید کہا کہ مستحکم مانیٹری پالیسی فریم ورک معاشی استحکام کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرمائے، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے مواقع اور مقامی صنعتوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔








