فیصل آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے کہا ہے کہ کاروباری تنازعات کے حل کےلئے چیمبر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تاکہ پولیس پر کام کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور وہ پوری توجہ جرائم کی بیخ کنی پر دے سکے۔وہ ایس ڈی پی او پیپلز کالونی اے ایس پی محترمہ زینب خالدسے ملاقات …
کاروباری تنازعات کے حل کے لیے فیصل آباد چیمبراپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے،صدر ڈاکٹر خرم طارق

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے کہا ہے کہ کاروباری تنازعات کے حل کےلئے چیمبر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے تاکہ پولیس پر کام کے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور وہ پوری توجہ جرائم کی بیخ کنی پر دے سکے۔وہ ایس ڈی پی او پیپلز کالونی اے ایس پی محترمہ زینب خالدسے ملاقات کے دوران اظہار خیال کررہے تھے ۔
ڈاکٹر خرم طارق نے بتایا کہ دنیا بھر میں میڈی ایشن کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ آربٹریشن اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12سالوں میں ترکی نے 600 ارب ڈالر کے لین دین کے کیس نمٹائے جس سے اس ملک میں مجموعی طور پر 85فیصدلٹی گیشن کم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گزشتہ برس ایک قانون پاس کیا گیا جس کے تحت 150میڈی ایشن سنٹرز قائم کئے گئے جن کےلئے 12ہزار ایڈووکیٹس پیش ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سٹیزن پولیس لائزان کا تجربہ بہت کامیاب رہا لیکن فیصل آباد میں یہ تجربہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکا ، اس کو از سر نو بحال کرنے کےلئے جامع میکانزم کی ضرورت ہے۔
خرم طارق نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ نفری کی کمی ہے اس لئے اس متبادل نظام کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے ملت انڈسٹریل سٹیٹ میں پولیس کے ساتھ مل کر گشت کا نظام متعارف کرایا ۔ سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد نے کہا کہ بنیادی طور پر فیصل آباد کاروباری لوگوں کا شہر ہے جہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے تاہم لین دین اور489ایف کے کیس زیادہ ہیں جن میں چیمبر یا متعلقہ ایسوسی ایشنیں مصالحتی کردار ادا کر سکتی ہیں، اس سلسلے میں چیمبر اِن ایسوسی ایشنوں کی فہرست بھی مہیا کر سکتاہے تاکہ پولیس پر غیر ضروری کام کا دباؤ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور تاجر تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے اپنے گاؤ ں کی مثال دی اور کہا کہ انہوں نے پولیس کو گشت کےلئے موٹر سائیکلیں لےکر دیں جس کی وجہ سے گزشتہ 5سالوں کے دوران وہاں کوئی واردات نہیں ہوئی۔ نائب صدر حاجی محمد اسلم بھلی نے کہا کہ پولیس کے رویے میں تبدیلی ضروری ہے۔ اے ایس پی محترمہ زینب خالد نے کہا کہ ان کی حال میں ہی تعیناتی ہوئی ہے اور وہ فیصل آباد کے سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کر رہی ہیں تاکہ جرائم کے ہاٹ سپاٹ کی واضح طور پر نشاندہی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے تاہم کیمرے ایسے ہیں جن سے مطلوبہ شخص کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ای پولیسنگ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اس سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے پولیس گشت کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی یقین دلایا اور کہا کہ پولیس کی گاڑیوں میں ٹریکر لگائے گئے ہیں جن سے ان کی لوکیشن کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سینئر نائب صدر سے کہا کہ وہ پولیسنگ کا مجوزہ ماڈل ان سے شیئر کریں تاکہ اس پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ آخر میں صدر ڈاکٹر خرم طارق نے ایس ڈی پی او پیپلز کالونی محترمہ زینب خالد کو گلدستہ اور چیمبر کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔








