اوکاڑہ۔ 19 نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کے باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کاانحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے۔ باغبان تھوڑی سی توجہ سے نہ صرف پھل کی بہتر کوالٹی بلکہ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پاکستان آم کی کل پیداوار کا صرف 6فیصدبرآمد کرتا ہے۔اگر بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق معیار کو بہتر بنایا …
محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گڈھیری کے تدارک کیلئے حکمت عملی جاری کر دی

مزید خبریں
اوکاڑہ۔ 19 نومبر (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کے باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کاانحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے۔ باغبان تھوڑی سی توجہ سے نہ صرف پھل کی بہتر کوالٹی بلکہ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پاکستان آم کی کل پیداوار کا صرف 6فیصدبرآمد کرتا ہے۔اگر بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق معیار کو بہتر بنایا جائے تو آم کی برآمدات میں اضافہ کی کافی گنجائش موجود ہے۔
آم کی گدھیڑی کے بچے اور ما دہ درختو ں کی نر م شا خو ں سے اپنے منہ کی سو ئیا ں چبھو کر رس چو ستے ہیں اور جسم سے لیسدار مادہ خا رج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ پھپھو ندی اُگ آتی ہے اس طرح عمل ضیا ئی تالیف میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پودے کی خوراک کم بنتی ہے جس سے نر م شا خیں اور پھو ل خشک ہو جا تے ہیں۔ماہ دسمبر میں آم کی گڈھیری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
باغبان ان کی تلفی کیلئے آم کے پودوں کے گرد گوڈی کریں۔تنے کے گرد زمین کھود کر کلوربائی ری فاس
(chlorbyrifos)
10 ملی لٹر فی لٹر انی میں ملا کر ڈالیں تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں۔آم کے پودوں کے تنوں پر1 فٹ چوڑائی کا بند لگائیں اور اس کے درمیان 1انچ اچھی کوالٹی کے گریس کا بند لگائیں تاکہ گڈھیری کے بچے اوپر نہ چڑھ سکے۔
آم کی گدھیڑی کے شدید حملہ کی صورت میں کیمیائی انسداد کیلئے امیڈا کلوپرڈ بحساب 120 ملی لٹر یا ٹرائی ایزوفاس بحساب250 ملی لٹر یا پروفینوفاس50 ملی لیٹر فی 100 لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
اگر گدھیڑی کا حملہ صرف درختوں کے تنوں تک ہی محدود ہو تو ہاتھ والی سپرے مشین (نیپ سیک سپریئر ) کے ذریعے درختوں کے تنوں پر بنائے گئے رکاوٹی تنوں کے نیچے سپرے کریں۔ مینگو ملی بگ کی پہلی اور دوسری حالت میں ہی کیمیائی انسداد ممکن ہے۔








