فیصل آباد۔ 30 نومبر (اے پی پی):ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادچوہدری عبدالحمید نے کہا ہے کہ زمیندار، کاشتکار، کسان فصلات ربیع و خریف کی کاشت سے قبل کھادوں کے استعمال کے لئے زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں اور ماہرین کی مشاورت سے متناسب کھادوں کا استعمال کیا جائے تاکہ بھر پور پیداوار کا حصول ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ ہر سال زمین …
محکمہ زراعت کا کاشتکاروں کو سال میں کم از کم ایک بار زرعی زمین کا تجزیہ کروانے کامشورہ

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 30 نومبر (اے پی پی):ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادچوہدری عبدالحمید نے کہا ہے کہ زمیندار، کاشتکار، کسان فصلات ربیع و خریف کی کاشت سے قبل کھادوں کے استعمال کے لئے زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں اور ماہرین کی مشاورت سے متناسب کھادوں کا استعمال کیا جائے تاکہ بھر پور پیداوار کا حصول ممکن ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ ہر سال زمین کا تجزیہ کروائیں تاہم اگر ہر سال ممکن نہ ہو تو کم از کم ہردوسرے یازیادہ سے زیادہ تیسرے سال زمین کا تجزیہ ضرور کروائیں تاکہ مٹی کے تجزیہ کے بعداس کی ذرخیزی میں اضافہ اور کمی بیشی دور کرنے کیلئے متناسب کھادوں کے استعمال کا مشورہ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر موذوں کھادوں کے انتخاب، ان کے خود ساختہ استعمال، آبپاشی کیلئے پانی کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے کھادوں اور بیج کی افادیت بری طرح سے متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نائیٹروجنی کھاد کی 50 فیصد کے قریب مقدار ہوا میں تحلیل ہو کر ضائع ہوجاتی ہے نیز فاسفورس کھادوں کا غلط انتخاب و طریقہ استعمال اور پوٹاش کا عدم استعمال فصلوں کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ باغات میں معتدل اور تیزابی کھادوں کا متوازن استعمال کریں تاکہ انہیں فی ایکڑ بہتر پیداوار حاصل ہوسکے۔








