فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):فروٹ فلائی کاحملہ ترشاوہ پھلوں کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا باغبان پھل کو کیرے سے بچانے کیلئے فوری تدارکی اقدامات کریں تاکہ انہیں معاشی لحاظ سے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔آری فیصل آباد کے ماہرین اثمارنے بتایاکہ دنیا میں تقریباً 24 اقسام کی پھل کی مکھیاں موجود ہیں جن میں 7 اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں اور کیڑوں کے ماہرین اور پھل درآمد کرنے …
باغبان ترشاوہ پھل کوکیرے سے بچانے کیلئے فوری تدارکی اقدامات کریں، ماہرین اثمار

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 18 دسمبر (اے پی پی):فروٹ فلائی کاحملہ ترشاوہ پھلوں کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا باغبان پھل کو کیرے سے بچانے کیلئے فوری تدارکی اقدامات کریں تاکہ انہیں معاشی لحاظ سے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔آری فیصل آباد کے ماہرین اثمارنے بتایاکہ دنیا میں تقریباً 24 اقسام کی پھل کی مکھیاں موجود ہیں جن میں 7 اقسام پاکستان میں پائی جاتی ہیں اور کیڑوں کے ماہرین اور پھل درآمد کرنے والوں دونوں کو پھل کی مکھی کے نقصان کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایاکہ اس کیڑے کے بارے میں باغبان حضرات کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایاکہ پھل کی مکھی کی جسامت عام گھریلو مکھی جتنی اوراس کی رنگت سرخی مائل بھوری ہوتی ہے،مکھی کے دھڑ پر لمبائی پردو پیلے رنگ کی دھاریاں اوریہ سنڈیاں ٹانگوں کے بغیرہوتی ہیں جن کا رنگ ہلکا پیلا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مادہ مکھی اپنے انڈے دینے والی سوئی پھل میں چبھو کرایک وقت میں چھلکے کے نیچے 3سے 4 انڈے دیتی ہے جن سے موسم گرما میں 2 تا 4 دن اور موسم سرما میں 4 تا8 دن میں سنڈیاں نکل آتی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ سردیوں میں مکھی 27 سے44 دن تک زندہ رہتی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ ماضی میں پھل کی مکھیوں کا کنٹرول زہروں کے استعمال سے کیا جاتا رہا ہے اس سے ماحول دوست کیڑوں کے نقصان کےعلاوہ ماحول میں بھی خرابی پیدا ہو جاتی ہے اسلئے پھل کی مکھی کو سپرے کے ذریعے کنٹرول کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ یہ اپنے قدرتی ماحول میں چھپنے کی اہلیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ باغبان پھل کی مکھی کے کیمیائی تدراک کیلئے ٹریسر یا ریڈینٹ 20 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی اورنباتاتی تیل نیم آئل2 ملی لٹر فی لٹر پانی کا استعمال کریں۔








