فیصل آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی):شعبہ پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز محکمہ زراعت فیصل آباد ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر رسول نے موسم سرما کے دوران ٹماٹر،مٹر، کھیرے اورچپن کدوکی فصل پر روئیں دار پھپھوند کے حملہ کے خدشہ کے پیش نظر کاشتکاروں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چونکہ مذکورہ حملہ سے پتوں کی نچلی سطح پر …
محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو موسم سرما کے دوران سبزیوں کی حفاظت کی سفارش

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 18 دسمبر (اے پی پی):شعبہ پلانٹ پروٹیکشن، پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز محکمہ زراعت فیصل آباد ریجن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عامر رسول نے موسم سرما کے دوران ٹماٹر،مٹر، کھیرے اورچپن کدوکی فصل پر روئیں دار پھپھوند کے حملہ کے خدشہ کے پیش نظر کاشتکاروں کو حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چونکہ مذکورہ حملہ سے پتوں کی نچلی سطح پر نمدار دھبے تیزی سے بڑھنے کے باعث پتے مرجھا کر سوکھ جاتے ہیں اور فصل کو بھی شدید نقصان پہنچتاہے لہٰذا کاشتکار اس ضمن میں کسی کوتاہی کامظاہرہ نہ کریں اور ماہرین زراعت کی مشاورت کے مطابق تدارکی اقدامات یقینی بنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سردیوں میں کاشتہ سبزیوں ٹماٹر، کھیرا، چپن کدو اور مٹرپرروئیں دار پھپھوند کا حملہ ہوتا ہے جس سے پتوں کی نچلی سطح پر نمدار دھبے تیزی سے بڑھتے اور پتے مرجھا کر سوکھ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ15سے20 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 80 فیصد سے زیادہ نمی یا ابرآلو د موسم میں اس بیماری کا حملہ تیزی سے ہوتا ہے جس سے پودے اور پھل بھی گل سڑ جاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ سفوفی پھپھوندبھی کھیرا، چپن کدو اور مٹر پر حملہ آور ہو کران کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے جبکہ اس بیماری کے حملہ کی صورت میں ان فصلوں کے نچلے پتوں پر گول سفید دھبے نمودار اور آہستہ آہستہ یہ دھبے تنوں اور پتوں کی بالائی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان دھبوں میں سفید پھپھوند پیدا ہوتی ہے جو جم اور متاثرہ بھورے پتے مرجھا کر مرجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ سفید پھپھوند پھلوں پر بھی حملہ آور ہوتی ہے جس سے پھلوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور ذائقہ خراب ہوجاتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ پچھیتا جھلساؤ کی بیماری سے ٹماٹر پھول گوبھی، سرخ مرچ اور شملہ مرچ متاثر ہوتی ہیں جس سے پتوں، تنے، پھلوں اور ڈنڈیوں پر نمدار بھورے اور ارغوانی دھبے پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ پتوں کے زیر یں سطح پر پھپھوند کا مواد پیداہوتا ہے اور زیادہ نمی کے دوران یہ بیماری وباء کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار ان بیماریوں کے تدارک کے لیے بیج کو مناسب پھپھوند کش زہر لگالیں اورحفاظتی پھپھوند کش زہر پانی میں ملا کر دس دن کے وقفہ سے سپرے کریں نیزبرداشت کے بعد فصلات کے بچے کھچے حصوں کو جلادیں تاکہ پھپھوند دیگر پودوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔








