ملک کے معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری ، تجارتی خسارے میں 6 ماہ کے دوران 35 فیصد،حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارے میں 77 فیصد کمی ریکارڈ

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):حکومت کی جانب سے کلی معیشت کے استحکام اور پائیدار اقتصادی نمو کےلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں ملک کے معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کے تجارتی خسارے میں جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد اور حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارے میں سالانہ بنیادوں پر 77 فیصد …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):حکومت کی جانب سے کلی معیشت کے استحکام اور پائیدار اقتصادی نمو کےلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں ملک کے معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کے تجارتی خسارے میں جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد اور حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارے میں سالانہ بنیادوں پر 77 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2023 تک کی مدت میں ملک کے تجارتی خسارے کا حجم 9.952 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 35 فیصد کم ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک کے تجارتی خسارے کا حجم 15.36 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر 2023 میں تجارتی خسارے کا حجم 1.229 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر 2022 کے مقابلے میں 33 فیصد کم ہے۔ دسمبر 2022 میں تجارتی خسارے کا حجم 1.939 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں تجارتی خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر 25 فیصد کی کمی ہوئی، نومبر میں تجارتی خسارہ 1.71 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر میں کم ہو کر 1.29 ارب ڈالر ہوگیا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ملک کی برآمدات میں 7 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک کی مدت میں ملکی برآمدات کا حجم 15.28 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7 فیصد زیاد ہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملکی برآمدات کا حجم 14.22 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر میں برآمدات سے 2.79 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا جو دسمبر 2022 کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔

دسمبر 2022 میں برآمدات سے 2.30 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں ملکی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 3 فیصد کی نمو ہوئی۔ نومبر میں برآمدات کا حجم 2.72 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر میں بڑھ کر 2.79 ارب ڈالر ہوگیا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں درآمدات پر 25.24 ارب ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملکی درآمدات کا حجم 29.58 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر میں درآمدات پر 4.092 ارب ڈالر کا زرمبادلہ صرف ہوا دسمبر 2022 کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہے۔

دسمبر 2022 میں ملکی درآمدات کا حجم 4.24 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 8 فیصد کی کمی ہوئی ۔ نومبر میں درآمدات پر 4.44 ارب ڈالر صرف ہوئے جو دسمبر میں کم ہو کر 4.092 ارب ڈالر ہوگئے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 8.31 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 77 فیصد کم ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 3.62 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا توازن397 ملین ڈالر فاضل ریکارڈ کیا گیا جو نومبر 2022 میں 365 ملین ڈالر تھا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پرائمری بیلنس 3.73 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں پرائمری بیلنس کا حجم 2.631 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دسمبر میں پرائمری بیلنس کا حجم 753 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو دسمبر 2022 کے 680 ملین ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔