فیصل آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):نئی انڈسٹریل سٹیٹس و اکنامک زونزمیں لگنے والی صنعتوں کی ٹرینڈ مین پاور کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنا ہو گی جبکہ صنعتی، معاشی، اقتصادی، کاروباری ترقی کیلئے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کر کے معاشی انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے لہٰذاٹیکنیکل ہینڈ افرادی قوت کی کمی دور کرنے …
صنعتی و کاروباری ترقی کیلئے لڑکوں کیساتھ ساتھ لڑکیوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کر کے معاشی انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے،صدر فیصل آبادوومن چیمبر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 17 جنوری (اے پی پی):نئی انڈسٹریل سٹیٹس و اکنامک زونزمیں لگنے والی صنعتوں کی ٹرینڈ مین پاور کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنا ہو گی جبکہ صنعتی، معاشی، اقتصادی، کاروباری ترقی کیلئے لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو فنی تعلیم سے آراستہ کر کے معاشی انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے لہٰذاٹیکنیکل ہینڈ افرادی قوت کی کمی دور کرنے سمیت باعزت روزگار کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ طلبا و طالبات اورخواتین وحضرات کو فنی تعلیم کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
فیصل آبادوومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر روبینہ امجدنے وومن بزنس کمیونٹی کے وفد سے بات چیت کے دوران کہا کہ ہمیں روایتی تعلیم کی بجائے عالم اقوام کے ایجوکیشن سسٹم سے استفادہ کرتے ہوئے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کی جانب بھی زیادہ سے زیادہ توجہ دینا ہو گی تاکہ کلرکوں کی بجائے ٹیکنیکل ہینڈ لوگ تیار کر کے ان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی ضروریات اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے پیش نظر فنی تعلیم کے فروغ اور ہنرمندافرادی قوت کے ذریعے معاشی انقلاب برپا کیاجاسکتا ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہ طلبا و طالبات اورخواتین وحضرات کو فنی تعلیم کے حصول کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ ہنر مند افرادی قوت کی کمی دور کرنے سمیت باعزت روزگار کاحصول بھی یقینی ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کو فروغ دیکر ہی معاشی انقلاب برپاکرنے میں معاونت حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بچیاں بھی فنی تعلیم حاصل کررہی ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے جبکہ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ خواتین ملک کی کل آبادی کا نصف سے بھی زائد ہیں۔انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کی مد میں سالانہ بجٹ و موجودہ فنی تعلیمی اداروں کی استعداد کار کو بڑھائیں بلکہ مزید اداروں کے قیام سے فنی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے بھی اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔
انہوں نے ٹیوٹااور نیو ٹیک کے زیراہتمام صوبے کی سطح پرفنی ہنرسے متعلق مقابلہ جات کے انعقاد کی بھی تجویز پیش کی اور کہا کہ حکومت کے صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کیلئے اقدامات کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے جس سے بیروز گاری کے خاتمہ اور غربت میں کمی میں بھی مدد ملے گی۔








