نئی دہلی ۔ 20 فروری (اے پی پی) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شیر خوار بچوں کو پہلے تین سالوں میں بڑوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔سر گنگا رام ہسپتال کے ماہر صحت ستیش سلوجانے کہنا ہے کہ آئرن نہ صرف ہیموگلوبن کی پیداوار کے لئے بلکہ دماغی صلاحیت میں اضافے کے لئے بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ …
شیر خوار بچوں کو پہلے تین سالوں میں بڑوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، ماہرین صحت

مزید خبریں
نئی دہلی ۔ 20 فروری (اے پی پی) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شیر خوار بچوں کو پہلے تین سالوں میں بڑوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔سر گنگا رام ہسپتال کے ماہر صحت ستیش سلوجانے کہنا ہے کہ آئرن نہ صرف ہیموگلوبن کی پیداوار کے لئے بلکہ دماغی صلاحیت میں اضافے کے لئے بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ بچوں کو اس مرحلے پر بڑوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے ،اس عمر میں صحیح غذائیت اور دیکھ بھال سے بچے مستقبل میں بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکتے ہیں۔حکومتی اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں ایک منٹ میں 34بچوں کی پیدائش ہو تی ہے جبکہ ایک گھنٹے کے دوران 2062 بچے اور ایک دن میں 49481بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ماہرین نے ماﺅں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ شیر خوار بچوں کو کاربوہائڈریٹس پر مشتمل غذائیں دیں ایسی غذائیں بچوں کی قوت مدافعت کو بڑھاتی ہیں۔








