اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف نفسیاتی جنگ میں میڈیا پوری قوم کو متحد و یکجا کرنے میں فرنٹ لائن کردار ادا کرے جسطرح سانحہ اے پی ایس کے بعد میڈیا نے دہشت گردوں کے تشدد آمیزبیانیے کو رد کرتے ہوئے قوم کی آواز کو اجاگر کیا ،آج اسی جذبے اور عزم کی ضرورت …
وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی میڈیا کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف نفسیاتی جنگ میں میڈیا پوری قوم کو متحد و یکجا کرنے میں فرنٹ لائن کردار ادا کرے جسطرح سانحہ اے پی ایس کے بعد میڈیا نے دہشت گردوں کے تشدد آمیزبیانیے کو رد کرتے ہوئے قوم کی آواز کو اجاگر کیا ،آج اسی جذبے اور عزم کی ضرورت ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مسئلے پرسیاست یا کسی ذاتی نفع یا مفاد کا سوچنا ملک وقوم سے غداری ہے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیرِ اعظم سیکرٹیریٹ میں میڈیا کی نمائندہ تنظیموں، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مقصد قوم کے حوصلے کو متزلزل کرنا ہے لیکن ہم سب نے ملکر دشمن کے عزائم کو شکست دینی ہے اور اس ضمن میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے۔ میڈیا نے نہ صرف تشدد پر مبنی گمراہ کن ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہے بلکہ قوم کے اصل تشخص اور قومی بیانیے کی بھرپور تشہیر کرنا ہے تاکہ آپریشنل جنگ کے بعد نفسیاتی جنگ میں بھی ہم کامیاب ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں میڈیا کے بھرپور کردار اور تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ میڈیا نے زندگی کے ہر شعبے میں اور ہر اہم مسئلے پر حکومت اور ریاست کی رہنمائی کی ہے۔ میڈیا کے تجزیوں اور تنقید سے جہاں خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے وہاں اہم قومی مسئلوں پر اتفاقِ رائے اور مشترکہ حکمت عملی بنانے میں بھی معاونت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردی کے خلاف جنگ اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے اس نازک مرحلے پر قومی عزم کو اجاگر کرنے سے قوم مضبوط اور دہشت گردوں کو شکست ہوگی۔ ملک میں دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں ہماری مشترکہ کاوشوں سے دہشت گردی کے گراف میں واضح کمی آئی ہے۔








