پاکستان میں دستیاب خام مال کی ویلیو ایڈیشن ضروری ہے جس کیلئے ذہنی رجحانات میں واضح تبدیلی لانا ہوگی،ترجمان پٹیا

فیصل آباد۔ 20 فروری (اے پی پی):جدید علوم اور ٹیکنالوجی کو سماجی زندگی کا حصہ بنائے بغیر ترقی کے ثمرات سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا اور اس مقصد کیلئے ہمیں مربوط حکمت عملی کے تحت فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جبکہ صنعتی انقلاب سے شرو ع ہونے والا …

فیصل آباد۔ 20 فروری (اے پی پی):جدید علوم اور ٹیکنالوجی کو سماجی زندگی کا حصہ بنائے بغیر ترقی کے ثمرات سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا اور اس مقصد کیلئے ہمیں مربوط حکمت عملی کے تحت فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ ترقی یافتہ ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جبکہ صنعتی انقلاب سے شرو ع ہونے والا ترقی کا سفر کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہوا اب ڈیجیٹلائزیشن کی سرحدوں کو چھو رہا ہے اسلئے ہمیں اس صورتحال میں ترقی کے مقاصد کو حاصل کرنے اور عالمی برادری کے ساتھ قدم ملا کے چلنے کیلئے فوری اور ضروری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب تک موٹر سائیکل کی چین تک خود تیار نہیں کر رہے۔ انہوں نے صنعتی پسماندگی کی مختلف وجوہات کے بارے بتایا کہ پاکستان میں بہت سے تعلیمی، تحقیقی اور ٹیکنیکل ادارے عالمی اداروں کے ہم پلہ ہیں جنہوں نے بہت سی نئی ٹیکنالوجیز کو بھی ڈویلپ کیا ہے مگر اس کے باوجود صنعتوں میں اب تک فرسودہ پرانی اور متروک ٹیکنالوجی کو ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے جرمنی کا خاص طور پر ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس نے بہت سی مخیرالعقول ایجادات کیں اور ان کی فکر، سوچ اور عمل میں یکسوئی نے ان کیلئے ترقی کے نئے دروازے کھول دیئے۔ اسی طرح چین کا ماڈل بھی ہمارے سامنے ہے لہٰذاہمیں بھی چوتھے صنعتی انقلاب سے مستفید ہونے کیلئے اسے اپنی سماجی زندگی کا لازمہ بنانا ہو گا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت بارے کہا کہ اس کو صنعت و تجارت کے علاوہ تعمیرات اور دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں دستیاب خام مال کی ویلیو ایڈیشن ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے معاشرے کے ذہنی رجحانات اور میلانات میں واضح تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 46سال سے یہ شہر صنعتی، تجارتی، کاروباری اور ٹریڈ کمیونٹی کی ہر سطح پر نمائندگی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی افرادی قوت بیرون ممالک کام کر کے بلین ڈالرز سالانہ کی ترسیلات زر وطن عزیز کو بھیج رہی ہے جبکہ ہم انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ سے چند ارب ڈالر لینے کیلئے کوشاں رہتے ہیں جبکہ اس کیلئے ہمیں کئی ایک معاشی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی یونیورسٹیوں سے ہر سال تقریباً ایک لاکھ گریجویٹس فارغ التحصیل ہو رہے ہیں مگر صنعتوں کو ان کی نہیں بلکہ ٹیکنیکل ہینڈ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی ساری ترقی کا راز انڈسٹری اکیڈیمیا روابط میں ہے۔

مزید خبریں