نئی دہلی۔13اپریل (اے پی پی):بھارت کے گاوں کوڈینہی میں 4 سو سے زیادہ جڑواں بچے ہیں۔ بھارتی اخبار اینڈین ٹائم کے مطابق جنوبی ریاست کیرالہ کے ضلع ملا پورم کا گاؤں کوڈینہی میں 4 سو سے زیادہ جڑواں بچے ہیں۔لوگ جہاں دو سوا دو ہزار خانوادے پر مبنی اس گاؤں کی خوبصورتی کے قائل ہیں وہیں یہاں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کی تعداد کے بارے میں بھی انگشت بدنداں …

نئی دہلی۔13اپریل (اے پی پی):بھارت کے گاوں کوڈینہی میں 4 سو سے زیادہ جڑواں بچے ہیں۔ بھارتی اخبار اینڈین ٹائم کے مطابق جنوبی ریاست کیرالہ کے ضلع ملا پورم کا گاؤں کوڈینہی میں 4 سو سے زیادہ جڑواں بچے ہیں۔لوگ جہاں دو سوا دو ہزار خانوادے پر مبنی اس گاؤں کی خوبصورتی کے قائل ہیں وہیں یہاں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کی تعداد کے بارے میں بھی انگشت بدنداں رہتے ہیں۔

دنیا بھر کے ڈاکٹروں کے لیے بھی یہ کسی معمے سے کم نہیں جس کو سلجھانے میں وہ ایک عرصے سے لگے ہوئے ہیں۔یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں علم بشریات کی ماہر لوریڈا میڈریگل تو کوڈینہی کو کسی ‘دوسری دنیا کا خطہ’ مانتی ہیں۔ انھوں نے اس پر تحقیق کی ہے۔ماہرین اس گاؤں میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے غیر معمولی رجحان پر حیران ہیں جو کہ عالمی اوسط سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے۔ 2008 میں وہاں کی خواتین نے 300 صحت مند بچوں کو جنم دیا جن میں سے 15 خواتین کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے۔

پیدائش کے اعداد و شمار رکھنے والے محکمے کے مطابق کوڈینہی گاؤں میں گذشتہ پانچ سالوں میں 60 جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ جڑواں بچوں کی گنتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید خبریں