فیصل آباد۔ 07 مئی (اے پی پی):ملک کے مایہ نازستارہ امتیازکے حامل زرعی سائنسدان ڈاکٹر عابد محمودنے کہا کہ اگرچہ ملک میں تل کے زیر کاشت رقبہ میں 277فیصد اورپیداوار میں 300تک اضافہ ہوا ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کرزرعی سائنسدان تل جیسی منافع بخش فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ کے ذریعے ملکی معیشت کو …
تل کے زیر کاشت رقبہ میں 277فیصد اورپیداوار میں 300فیصدتک اضافہ ہوا ہے ، عابد محمود

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 07 مئی (اے پی پی):ملک کے مایہ نازستارہ امتیازکے حامل زرعی سائنسدان ڈاکٹر عابد محمودنے کہا کہ اگرچہ ملک میں تل کے زیر کاشت رقبہ میں 277فیصد اورپیداوار میں 300تک اضافہ ہوا ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کرزرعی سائنسدان تل جیسی منافع بخش فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ کے ذریعے ملکی معیشت کو تقویت مل سکے جبکہ پاک چائنہ فری ٹریڈ کے ذریعے زرعی اجناس دھان، تل، مرچ،پھل و دیگر سبزیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایو ب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں شعبہ آئل سیڈ کے زیر اہتمام تل کی کاشت کے فروغ بارے منعقدہ زرعی سیمینار کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے کیاجس میں چائنیززرعی یونیورسٹیوں کے زرعی سائنسدانوں اور ایکسپورٹ کمپنیوں کے وفودکے علاوہ چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد،ماہر تیلدار اجناس محمد دیاض اور حافظ سعد بن مصطفی سمیت زرعی سائنسدانوں، کاشتکاروں، پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کے نمائندگان اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیامینز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ڈاکٹر عابد محمودنے بتایا کہ تل کی بہتر مارکیٹنگ اور ایکسپورٹ میں اضافہ سے گذشتہ سالوں کی نسبت تل کا زیر کاشت رقبہ چند ہزار ایکڑ سے بڑھ کر10لاکھ ایکڑ سے تجاوز کر گیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔ڈاکٹر محمد ایوب نیشنل کوآرڈنیٹر آئل سیڈ پروموشن پروگرام وفاقی وزارت خوراک و فوڈ سکیورٹی نے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تل کے بیج میں 50 فیصد سے زائد اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل اور 22 فیصد سے زیادہ اچھی قسم کی حامل پروٹین پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر جاوید احمد چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم بطور ڈائریکٹر جنرل ریسرچ پنجاب نے زرعی سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تلوں میں 28 ملی گرام فی کلوگرام کیلشیم، 23 ملی گرام فی کلوگرام فولاد اور 13 ملی گرام فی کلو گرام تانباپایا جاتا ہے
جو ہڈیوں کی مضبوطی کے علاوہ جوڑوں کے درد کے خاتمہ میں معاون ہیں جبکہ تلوں کا تیل ادویات سازی اور اعلیٰ قسم کے صابن، عطریات بنانے میں استعمال ہوتا ہے جس کے ساتھ ساتھ تلوں کا استعمال کاربن پیپر،تلوں والے نان بنانے کے علاوہ فاسٹ فوڈ،بیکری مصنوعات اور مویشیوں اور مرغیوں کی متوازن خوراک بنانے میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے لہٰذا انہی خصوصیت کی وجہ سے تلوں کی مانگ میں روز بروزاضافہ ہو رہا ہے۔
حافظ سعد بن مصطفی ماہر تیلدار اجناس نے زرعی سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ادارہ نے تل کی شاندار اقسام اور انکی پیداواری ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تل کی فصل پانی کی کمی یا زیادتی، زمین کی قسم، فی ایکڑ پودوں کی تعداد، مرطوب درجہ حرارت میں کمی پیشی اور برداشت میں دیر سویر کیلئے بہت حساس ہے لہٰذا ان مشکلات پر قابو پا کر ہی کامیاب فصل لی جا سکتی ہے کیونکہ تل کم دورانیہ کی فصل ہے۔ڈاکٹر اعجازالحسن ماہر تیلدار اجناس نے زرعی سیمینار میں کاشتکاروں کوبتایاکہ تل کی فصل مئی تا جولائی میں بطور زائد خریف فصلوں کے طور پر کامیابی سے کاشت کی جاتی ہے
،تل کی فصل کم دورانیہ کی فصل ہونے کی وجہ سے فصلوں کے ہیر پھیر میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ تل کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے انمول 2023، فیصل آباد تل، ٹی ایچ6، ٹی ایس5اورتل18 کاشت کریں۔مسٹر شی شیانگ، کمرشل منیجر زراعت، سی میک کمپنی چائنا، پروفیسر ڈاکٹر ژانگ لی شن نارتھ ویسٹ زرعی یونیورسٹی چائنا اور ڈاکٹر ینکن کوئی،ہیبی اکیڈمی برائے زراعت و جنگلات نے زرعی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ چائنا کی کمپنیاں پاکستان میں زراعت کے فروغ کیلئے اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں نیز چائنازرعی فصلات کے جرم پلازم کے باہمی تبادلہ کے ذریعے زرعی تحقیق کو مزید تقویت ملے گی
جبکہ چائنا پاکستان میں فارم میکنائزیشن اور کارپوریٹ فارمنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے جا رہاہے۔ زرعی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سٹیٹ بنک پاکستان کے سینئر ایگزیکٹو محمد رفیق نے بتایا کہ مختلف جاری منصوبوں کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو 7فیصد تک شرح سود پر اربوں روپے کے زرعی قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں۔چوہدری شوکت علی چدھڑ مرکزی صدر چیمبر آف زراعت پاکستان نے بتایا کہ پاک چائنا باہمی تجارت کے فروغ کے ایم او یوز پر دستخط سے پاکستان میں زرعی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی۔ سیمینار کے اختتام پر پاک چائنا زرعی تحقیق کے فروغ بارے ایم او یوز پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوئی اورزرعی سائنسدانوں و دیگر مہمانوں میں شیلڈ اورسرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے۔








