فیصل آباد۔ 27 مئی (اے پی پی):ریتلی میرااور پانی کے اچھے نکاس والی زمین شکر قندی کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ہے لہٰذاایسے کاشتکار جن کے پاس دیگر فصلات کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو وہ انتہائی کم خرچ کے ذریعے بہتر مالی منافع حاصل کرسکتے ہیں۔ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آبادکے ترجمان کے مطابق شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم …
ریتلی میرااور پانی کے اچھے نکاس والی زمین شکر قندی کی کاشت کے لئے موزوں ہے ، ترجمان آری

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 27 مئی (اے پی پی):ریتلی میرااور پانی کے اچھے نکاس والی زمین شکر قندی کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ہے لہٰذاایسے کاشتکار جن کے پاس دیگر فصلات کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو وہ انتہائی کم خرچ کے ذریعے بہتر مالی منافع حاصل کرسکتے ہیں۔ریسرچ انفارمیشن یونٹ آری فیصل آبادکے ترجمان کے مطابق شکر قندی موسم گرما کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے جسے کم پانی اور تھوڑی کھاد سے بھی اگایا جا سکتاہے جبکہ اسکابیج بھی انتہائی کم خرچ ہے جس کے باعث کاشتکار بہترمالی منافع حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ شکر قندی میں 30 سے 35 فیصد تک کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں جو انسانی جسم کیلئے انتہائی مفید ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شکر قندی کی کاشت ایسے کاشتکاروں کیلئے بھی بھاری مالی منفعت کا باعث بنتی ہے جن کے پاس فصلوں کی کاشت کیلئے زیادہ سرمایہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ شکر قندی کی کاشت میں بیج کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہوتا کیونکہ اس فصل کی کاشت کیلئے بیلیں کاٹ کر لگائی جاتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وائٹ سٹار قسم کی شکر قندی کی کاشت بمپر کراپس کی ضامن ہوتی ہے جو سفید رنگ کی اچھی پیداوار دینے والی قسم ہے۔ انہو ں نے بتایاکہ ریتلی میرا، پانی کے نکاس والی زمین میں فی ایکڑ 200 کلوتک شکر قندی کا بیج کاشت کیا جا سکتا ہے۔








