لاہور۔30مئی (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ پھل کی مکھی کے میزبان پودوں میں امرود، آم، لوکاٹ، جامن، ترشاوہ اور آرڑو شامل ہیں۔ ایک بیان میں ترجمان محکمہ زراعت نے کہا کہ پھل کی مکھی اپنی افزائش نسل پھل کے اندر ہی رہ کر کرتی ہے اور بڑی ہو کر پھل سے زمین میں داخل ہوجاتی ہے اور پیوپے کی شکل میں زمین میں رہتی ہے پھر …
پھل کی مکھی کے کنٹرول کےلئے فیرومون ٹریپس کا استعمال کریں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
لاہور۔30مئی (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ پھل کی مکھی کے میزبان پودوں میں امرود، آم، لوکاٹ، جامن، ترشاوہ اور آرڑو شامل ہیں۔ ایک بیان میں ترجمان محکمہ زراعت نے کہا کہ پھل کی مکھی اپنی افزائش نسل پھل کے اندر ہی رہ کر کرتی ہے اور بڑی ہو کر پھل سے زمین میں داخل ہوجاتی ہے اور پیوپے کی شکل میں زمین میں رہتی ہے پھر خول اتار کر پروانے کی صورت میں زمین سے باہر آکر نر اور مادہ ملاپ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مادہ مکھی ملاپ کے بعد پھر پھل کے اندر انڈے دیتی ہے اور اپنی افزائش نسل جاری رکھتی ہے۔
نر مکھی کو کنٹرول کرنے کیلئے فیرومون، میتھائل یوجینال اور پروٹین ہائیڈرولائزیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ پھل کی مکھی کے لئے بے حد کشش رکھتا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ فیرومون پھندے کے استعمال سے پھلوں کے باغات میں پھل کی مکھی کے طریقہ انسداد کو بہتر بنایا گیا ہے جو نر کیڑے کے انسداد کا بہترین علاج ہے۔ فیرومون محلول میتھائل، یوجینال اور میلاتھیان سے تیار کیا جاتا ہے۔
اس محلول میں ڈبو کر پلاسٹک کے گول پھندے میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی شرح 6 پھندہ فی ایکڑ ہوتی ہے اور اس طرح پھل کی مکھی کا حملہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے جب اس کا موازنہ 50 سے 60 فیصد کے پہلے دورانیے سے کیا جاتا ہے۔ اس سے کاشتکاروں کےلئے پھل کی مکھی کو کنٹرول کرنے کےلئے زہروں کا استعمال بھی 80 سے 90 فیصد کم ہوجاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ چنائی کے بعد پھل کو 60منٹ کےلئے 5 فیصد نمک کے محلول میں رکھیں جس سے پھل کی مکھی کے انڈے مر جائیں گے اور پھل کو بعد میں اچھی طرح صاف کرلیں۔ پھل کی مکھی کے کیمیائی انسداد کےلئے محکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے مقامی عملے کے مشورے سے نئی کیمسٹری کی حامل سفارش کردہ زہریں استعمال کریں۔








