کاشتکارمکئی کاہائبرڈ بیج تیار کرنیوالے کھیتوں سے صرف مادہ لائنوں سے ہی چھلیاں توڑیں اورخشک کرکے اگلی فصل کیلئےمحفوظ کرلیں،ماہرین جامعہ زرعیہ

فیصل آباد۔ 30 مئی (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے مکئی کی برداشت کے بعد کاشتکاروں کو چھلیاں اچھی طرح خشک کرنے اور ساہیوال 2002، ایم ایم آر آئی ییلو، پرل اور اگیتی 2002 کا بیج آئندہ فصل کیلئے رکھنے کا مشورہ دیاہے۔انہوں نے کہا کہ جب مکئی کی فصل کٹائی کیلئے تیار ہو جائے تو چھلیاں پودوں سے نکال کر چبوتروں پر پتلی تہہ میں …

فیصل آباد۔ 30 مئی (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے مکئی کی برداشت کے بعد کاشتکاروں کو چھلیاں اچھی طرح خشک کرنے اور ساہیوال 2002، ایم ایم آر آئی ییلو، پرل اور اگیتی 2002 کا بیج آئندہ فصل کیلئے رکھنے کا مشورہ دیاہے۔انہوں نے کہا کہ جب مکئی کی فصل کٹائی کیلئے تیار ہو جائے تو چھلیاں پودوں سے نکال کر چبوتروں پر پتلی تہہ میں پھیلا دی جائیں اور بعد میں ان کو الٹتے پلٹتے بھی رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ موسم گرماکے دوران درجہ حرارت زیادہ ہوتاہے اسلئے چھلیوں کے خشک ہونے میں زیادہ سے زیادہ 3دن لگ سکتے ہیں لہٰذا چھلیاں خشک کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے

خاص کروہ چھلیاں جن سے اگلی فصل کیلئے بیج رکھنا مقصود ہوتو ان کو سایہ دار جگہ میں خشک کرنا بہت بہتر ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مکئی کی ترقی دادہ سنتھیٹک اقسام کااگلی فصل کیلئے بیج رکھنے کی غرض سے ایسے کھیتوں کا انتخاب کیاجائے جن کے ارد گرد3،3ایکڑ تک مکئی کی کوئی دوسری قسم کاشت نہ کی گئی ہو ورنہ بیج خالص نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہائبرڈ بیج تیار کرنیوالے کھیتوں سے صرف مادہ لائنوں سے ہی چھلیاں توڑی جائیں اور انہیں الگ خشک کرکے اگلی فصل کیلئے محفوظ کرلیاجائے۔انہوں نے کہا کہ گرین ماتھ، کھپرا، سونڈوالی سسری گوداموں میں بہاریہ مکئی پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچا سکتی ہے

لہٰذاکاشتکارذخیرہ کے دوران خصوصی حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ مکئی کی فصل کو سٹوروں میں سخت نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتاہے لہٰذا انسدادی و احتیاطی تدابیر اور تدارکی اقدامات پر عمل کرکے کیڑوں کے حملے سے بچا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ انسدادی تدابیر کے طورپر کاشتکار اور دیگر افراد پر میتھرین یا ڈیلٹیا میتھرین بحساب ایک لیٹر 100لیٹر پانی میں ملا کر گودام میں اس کا اچھی طرح سپرے کریں۔ انہوں نے کہاکہ غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے کے بعد یہ زہریں حسب ضرورت دیواروں اور بوریوں پر بھی سپرے کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ گوداموں کے کیڑوں کے انسداد کیلئے زہریلی گیس کے استعمال کا طریقہ بھی انتہائی موزوں ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس مقصد کیلئے گوداموں کی کھڑکیاں اور روشندان اچھی طرح بند کرکے ایلومینیم فاسفائیڈ کی 25 سے 30گولیاں فی ہزار مکعب فٹ حجم کے حساب سے رکھ کر دروازے اچھی طرح بند کردیئے جائیں اور گودام کو اس حالت میں کم ازکم 7دن تک رکھاجائے کیونکہ اس عمل سے پیداشدہ گیس سے ہرقسم کے کیڑے تلف ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار چھلیوں کے اندرونی پردے خشک ہونے، دانوں میں ناخن نہ چبھ سکنے اور دانوں کے نوک دار سرے سیاہ ہونے پر فصل کی کٹائی شروع کریں کیونکہ جب مذکورہ علامات ظاہر ہو جائیں تو سمجھ لیاجائے کہ بہاریہ مکئی برداشت کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ بہاریہ مکئی 120 سے 130دنوں میں پک کر تیار ہوجانیوالی ایک حساس فصل ہے جس کی کاشت سے برداشت تک ہر عمل بڑی محنت اور احتیاط کا متقاضی ہوتاہے۔

انہوں نے بتایاکہ جون کے آغاز سے ہی فصل پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتاہے توفصل کی تیاری میں دیر نہیں لگتی۔ انہوں نے کہاکہ بہاریہ مکئی کی کٹائی کے وقت دن کافی بڑے اور دھوپ تیزہوتی ہے اسلئے اس کی کٹائی میں آسانی رہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ فصل کو برداشت کرنے اور اس کے بعد خشک کرکے گوداموں میں سنبھالنے کے دوران بھی خصوصی احتیاط کرنی چاہیے تاکہ تیار شدہ فصل سے بھرپور فائدہ اٹھایاجاسکے۔