برلن۔29اگست (اے پی پی):جرمن حکومت نے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت بہتر بنانے کے ليے ٹک ٹاک اور الکحل کے لئے کے استعمال کے لئے مقرر کردہ عمر کی کم سے کم حد سے متعلق قوانين ميں سختی کا مطالبہ کيا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق منشيات کے استعمال کی روک تھام سے متعلق جرمن حکومت کے کمشنر برکہارڈ بلينرٹ نے نے اس بات کی تجویز …
جرمنی میں کم عمر بچوں کے ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر غور

مزید خبریں
برلن۔29اگست (اے پی پی):جرمن حکومت نے نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت بہتر بنانے کے ليے ٹک ٹاک اور الکحل کے لئے کے استعمال کے لئے مقرر کردہ عمر کی کم سے کم حد سے متعلق قوانين ميں سختی کا مطالبہ کيا ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق منشيات کے استعمال کی روک تھام سے متعلق جرمن حکومت کے کمشنر برکہارڈ بلينرٹ نے نے اس بات کی تجویز دی ہے کہ ملک ميں شراب نوشی کے لئے کم سے کم عمر 18 سال اور ٹک ٹاک کے استعمال کے ليے کم از کم12 سال مقرر کی جائے۔ جرمن چانسلر اولاف شولس کی سياسی جماعت سے وابستہ برکہارڈ بلينرٹ نے کہا کہ12 سال سے کم عمر بچوں کے ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دينی چاہيے۔ چند ممالک نے داخلی سطح پر اس وڈيو شيئرنگ پليٹ فارم پر پہلے ہی مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے،تاہم اس پابندی کے پس پردہ نابالغوں کی ذہنی صحت نہیں بلکہ ديگر عوامل کارفرما تھے۔
جرمن کمشنر نے کہا کہ 12 سال سے کم عمر کے نابالغوں کے ليے ٹک ٹاک استعمال کرنے پر مجوزہ پابندی کے نتيجے ميں بچے سوشل ميڈيا کو بہتر طور پر سمجھ پائيں گے اور وہ صحيح اور غلط ميں تفريق کے قابل بنيں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹين ايجرز کو بھی بلا رکاوٹ ٹک ٹاک استعمال کرنے کی اجازت نہيں ہونی چاہيے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تکنيکی رکاوٹوں کے ذريعے اس بات کو يقينی بنايا جانا چاہيے کہ 18 سال تک کی عمر والوں کو خطرناک سمجھے جانے والے مواد تک رسائی حاصل نہ ہو۔ کمشنر نے کہا کہ الکحل پینے کے ليے کم از کم عمر18سال مقرر کر دينی چاہيے۔ جرمنی ميں اس وقت عوامی مقامات پر 16 سال سےالکحل پینے کی اجازت ہے اور اگر والدين ساتھ ہوں تو 14 سال کی عمر والوں کو بھی الکحل والی اشيا نوش کرنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کے ليے بھی حد مقرر ہے، تمباکو والی اشيا آپ صرف18 سال کی عمر سے خريد سکتے ہيں۔ جرمن مارکيٹوں ميں بظاہر نوجوان اور کم عمر افراد سے الکحل اور تمباکو والی اشيا کی خريداری کے وقت شناختی دستاويز پيش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الکحل انسان کے جسمانی خليوں کے ليے زہر ہے، جو پہلے قطرے سے ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر ديتی ہے اور کوئی طبی ماہر وثوق کے ساتھ يہ نہيں کہہ سکتا کہ الکحل کی اتنی مقدار محفوظ ہے۔انہوں نے کہا کہ الکحل بالخصوص نوجوانوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جو اس عمر ميں نشونما کے مرحلے میں ہوتے ہيں کیونکہ الکحل اس عمر میں ذہن پر سخت منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔








