فلسطینی ریاست کے بغیر سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے، شہزادہ ترکی الفیصل

ریاض۔15ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے انتباہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات تب تک معمول پر نہیں آ سکیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آ جاتا۔ عرب نیوز کے مطابق لندن کے ایک تھنک ٹینک چتھم ہاؤس میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب …

ریاض۔15ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے انتباہ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات تب تک معمول پر نہیں آ سکیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آ جاتا۔

عرب نیوز کے مطابق لندن کے ایک تھنک ٹینک چتھم ہاؤس میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اقتصادی تعلقات استوار کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کا خواہشمند ہے لیکن ریاض کا مؤقف یہ ہے کہ ’اگر وہاں ایک فلسطینی ریاست ہے جس کے وجود میں آنے کو اسرائیل قبول کرتا ہے، تو پھر ہم اسرائیل کے ساتھ (تعلقات کو) معمول پر لانے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔

شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ’سات اکتوبر سے پہلے بات چیت نہ صرف ان خطوط پر آگے بڑھی بلکہ مملکت نے ایک فلسطینی وفد کو بھی مدعو کیا کہ وہ آ کر امریکیوں سے براہ راست بات کرے کہ فلسطینی ریاست کی تشکیل کیا ہو سکتی ہے۔میں ان مذاکرات سے واقف نہیں ہوں اس لیے میں نہیں جانتا کہ فلسطینیوں اور امریکیوں کے درمیان کیا ہوا، لیکن مملکت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لیے بات نہیں کریں گے۔ انہیں خود ہی (بات) کرنی ہو گی۔ بدقسمتی سے، سات اکتوبر (اسرائیل کے خلاف حماس کے حملے) نے ان مذاکرات کو ختم کر دیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام نہ صرف سعودی عرب بلکہ باقی مسلم دنیا کے ساتھ بھی اسرائیل کے تعلقات کے لیے اہم ہے۔

سابق سعودی انٹیلیجنس سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی ریاست بنیادی شرط ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے پوری حکومت کہہ رہی ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی نظر میں ایک آزاد فلسطین 1967 والی سرحدوں بشمول مشرقی یروشلم کو مضبوط کرے گا۔