ویانا ، آسٹریا۔19ستمبر (اے پی پی):پاکستان کو 21ویں مرتبہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی امن اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے استعمال میں آئی اے ای اے کے بصیرت انگیز اقدامات میں فعال شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ 68 ویں جنرل کانفرنس پاکستان کے لیے بہت سے اعزازات لے کر آئی …
68 ویں جنرل کانفرنس کے دوران اعزازت، پاکستان آئی اے ای اےکے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب ، اینکر سینٹر کے طور پر نوری ہسپتال کی پذیرائی

مزید خبریں
ویانا ، آسٹریا۔19ستمبر (اے پی پی):پاکستان کو 21ویں مرتبہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی امن اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے استعمال میں آئی اے ای اے کے بصیرت انگیز اقدامات میں فعال شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ 68 ویں جنرل کانفرنس پاکستان کے لیے بہت سے اعزازات لے کر آئی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے نامور ہسپتال نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ (نوری) نے بین الاقوامی سطح پر اس وقت تعریفیں سمیٹیں جب کینسر کی تشخیص، علاج اور علاقائی رکن ممالک کے ساتھ مہارت کے اشتراک میں اس کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا گیا ، یہ اعتراف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے خود 68ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر دو سائیڈ لائن ایونٹس میں شرکت کے دوران کیا۔
آئی اے ای اے سیکرٹریٹ کے زیر اہتمام پہلی سائیڈ لائن تقریب کا عنوان "سب کے لیے امید کا احساس: امید کی کرنیں اینکر سینٹرز – ایک سال مکمل ہونے پر” تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریز آف ہوپ اینکر سینٹرز تعلیم، تربیت، تحقیق، جدت اور کوالٹی ایشورنس جیسے اہم شعبوں میں پڑوسی ممالک کو ٹارگٹڈ سپورٹ کے ذریعے کینسر کی مساوی دیکھ بھال کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آئی اے ای اے کے پہلے پانچ اینکر سینٹرز کا ایک سال مکمل ہونےکے موقع پر اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تاکہ ان مراکز کی جانب سے حاصل کی گئی پیشرفت کو نمایاں کیا جا سکے۔ اس موقع پر رافیل ماریانو گروسی نے 15 اور 16 فروری 2023 کے پاکستان کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ہسپتال کے دورہ کو یاد کرتے ہوئے نوری ہسپتال کی سہولیات، مہارت کے ساتھ ساتھ اشتراک کرنے پر آمادگی کے حوالے سے سرفہرست ہونے کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ نوری ہسپتال اسلام آباد میں جدید ترین سہولیات سے بہت متاثر ہیں اور نوری کی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ سے یہ ہسپتال دنیا میں صحت سے متعلق پہلے پانچ معروف اینکر سینٹرز میں شامل تھا جنہیں آئی اے ای اے نے ریز آف ہوپ کے تحت نامزد کیا تھا اب جبکہ ایک سال گزر چکا ہے، نوری نے اینکر سینٹرز کے طور پر متاثر کن اور مثالی پیش رفت دکھائی ہے جو کہ قابل تعریف ہے۔ چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈائریکٹر نوری، ڈاکٹرز اور پورا عملہ شاندار پیش رفت دکھانے پر تعریف کا مستحق ہے،جنرل کانفرنس کا دوسرا سائیڈ ایونٹ پاکستان کے زیر اہتمام ایک ممبر اسٹیٹ ایونٹ تھا اور اس کا عنوان "پاکستان – آئی اے ای اے امید کا تعاون”تھا۔
اس تقریب نے اٹامک انرجی کینسر ہسپتال نوری کو اجاگر کیا، جو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے انیس کینسر ہسپتالوں میں سے ایک ہے اور کینسر کی تشخیص اور علاج میں شامل صحت کے پیشہ ور افراد کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ایک بڑا وسائل والا ہسپتال ہے۔ ضمنی تقریب نے پاکستان میں کینسر کے بوجھ کے انتظام میں اے ای ڈی ایچ ایس کے تعاون اور AECH-NORI کو بطور اینکر سنٹر نامزد کرنے کے بعد پیش کیے جانے والے ممکنہ کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہاکہ یقیناً ایک ایسی کمیونٹی سے خطاب کرنا میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے جو اپنے ممالک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی خواہشمند ہے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن صحت کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کو اعلیٰ ترجیح دیتا ہے۔
اس نے 380 اعلیٰ تربیت یافتہ نیوکلیئر فزیشنز، ریڈیو تھراپسٹ، آنکولوجسٹ کی ایک ٹیم کے ساتھ پورے ملک میں 19 کینسر ہسپتال قائم کیے ہیں جن میں سالانہ کینسر کے 40,000 نئے کیسز سامنے آتے ہیں ،پاکستان کے لیے یہ انتہائی خوشی کی بات تھی کہ رافیل ماریانو گروسی نے گزشتہ سال نوری، اسلام آباد میں ایک جدید ترین سائبر نائف سہولت کا افتتاح کیا۔چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کہا کہ کمیشن کینسر کی دیکھ بھال کے شعبے میں آئی اے ای اے اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہا ہے۔ پاکستان ’ریز آف ہوپ‘ کے فلیگ شپ اقدام کے تحت نوری اینکر سینٹر کے ذریعے کینسر کے علاج تک رسائی کے لیے علاقائی ممالک کی مدد کر رہا ہے۔
ضمنی تقریب کی خاص بات پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے ایک کتاب (مونوگراف) کے نئے ایڈیشن کی رونمائی تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کو قومی ترقی کے ایجنڈے کے آئٹمز کے طور پر دیکھتے ہوئے ان پر عمل پیرا ہے۔ ڈاکٹر علی رضا نے کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 17 ایس ڈی جیز میں سے دس میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ چیئرمین نے رافیل ماریانو گروسی، ڈی جی آئی اے ای اے نجات مختار، ڈی ڈی جی، نیوکلیئر ایپلی کیشنز اور عبدالوہاب، ڈائریکٹر، ہیومن ہیلتھ کا شکریہ ادا کیا۔آسٹریا میں پاکستان کے سفیر اور آئی اے ای اے کے مستقل نمائندے کامران اختر ملک نے مہمانوں کا استقبال کیا۔








