انسانی حقوق کے معاملہ پر امریکا کا دہرا معیار دنیا بھر میں تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے، چینی وزیر خارجہ

نیویارک ۔26ستمبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملہ پر امریکا کا دہرا معیار دنیا بھر میں تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے۔شنہوا کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک اور متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران کہی۔انہوں …

نیویارک ۔26ستمبر (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملہ پر امریکا کا دہرا معیار دنیا بھر میں تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے۔شنہوا کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک اور متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ منگل کو جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے 57ویں اجلاس میں 100 سےزیادہ ممالک نے چین کے موقف کی حمایت کی ہے اور انسانی حقوق پر سیاست کرنے کی مخالفت کی ہے۔سیشن کے دوران تقریباً 80 ممالک جن میں کئی مسلم ممالک بھی شامل ہیں، نے چین کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان دیا اور 20 سے زائد دیگر ممالک نے مختلف طریقوں سے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے معاملہ پر چین کے منصفانہ موقف کی حمایت کی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کی اکثریت طویل عرصے سے انسانی حقوق کے معاملے پر امریکا کے دہرے معیار کو دیکھ رہی ہے اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ امریکا انسانی حقوق کو بہانہ بنا کر چین اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یواین ایچ آرسی میں 100 سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کی واضح حمایت نہ صرف چین کے جائز حقوق کا دفاع ہے بلکہ بین الاقوامی انصاف اور انصاف کو برقرار رکھنے، ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصول کے تحفظ کے لئے بھی ہے۔ چینی رہنمانے نشاندہی کی کہ امریکا اور اس کے حواریوں کے اس طرح کے اقدامات نے ایک بار پھر انسانی حقوق کے مسائل پر ان کے د ہرے معیار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیاہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر امریکا کو مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں مسلسل جنگوں کو کیوں بھڑکاتا ہے یاان کی حمایت کرتا ہے جن میں بے شمار بے گناہ مسلمان مارے جار ہے ہیں؟وہ عرب ممالک میں عوام کو درپیش تاریخی ناانصافیوں پر کیوں آنکھیں بند ہوئے ہے اور اقوام متحدہ کا مکمل رکن بننے میں فلسطین کی حمایت کیوں نہیں کرتا؟ وہ غزہ سے مستقل جنگ بندی اور وہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا میں اپنا کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام ہے؟ انہوں نے کہاکہ چین انسانی حقوق کے مسائل پر تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے دروازے دنیا کے لئے کھلے ہیں۔