ٹیکسلا ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق اور تمام ججوں کا متفقہ ہے، سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کیا، الزام لگانے والے عدالتوں کا احترام کریں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا …
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ٹیکسلا میں صحافیوں سے گفتگو
ٹیکسلا ۔ 21 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پانامہ کیس پر عدالتی فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق اور تمام ججوں کا متفقہ ہے، سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے خود کو اور اپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کیا، الزام لگانے والے عدالتوں کا احترام کریں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا فیصلہ تمام ججوں کا متفقہ تھا، وزیراعظم نوازشریف نے مسلم لیگ (ن) کے تمام کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ عدالت میں زیر سماعت کیسز پر تبصروں سے اجتناب کیا جائے، عجب کرپشن کی غضب کہانیوں کے مرکزی کردار کا ایمانداری پر لیکچر دینا قیامت کی نشانی ہے، حکومت توانائی بحران کے خاتمے کیلئے دن رات کام کر رہی ہے، آئندہ چند ماہ میں چھ ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو جائے گی جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ٹیکسلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ کہا جانا کہ تین جج ایک طرف اور دو جج دوسری طرف تھے درست نہیں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر پانچوں جج متفق تھے۔ فیصلے کسی کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں اور زیر سماعت مقدمے پر اپنی عدالتیں لگانا قطعاً جائز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے اور وزیراعظم نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اور اس کا احترام کیا جائے اور اس پر تبصرہ سے گریز کیا جائے۔









