پاکستان نہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے اور نہ ہی اس میں شامل ہوناچاہتا ہے، پاکستانی مندوب

اقوام متحدہ ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ نہ تو جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے اور نہ ہی اس میں شامل ہوناچاہتا ہے۔ پاکستانی مندوب گل قیصر نے جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا کی ایک ریاست ( بھارت )کو جدید ہتھیاروں اور حساس ٹیکنالوجیز کی مسلسل فراہمی پر …

اقوام متحدہ ۔29اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ نہ تو جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے اور نہ ہی اس میں شامل ہوناچاہتا ہے۔

پاکستانی مندوب گل قیصر نے جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا کی ایک ریاست ( بھارت )کو جدید ہتھیاروں اور حساس ٹیکنالوجیز کی مسلسل فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ کشیدگی سے متاثرہ خطے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تنازعات میں گھری ہوئی ہے، جب قیام امن کی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، کچھ ریاستیں پرامن حل تلاش کرنے کے لیے جنگوں کی مالی اعانت کو ترجیح دے رہی ہیں۔

ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے (اےٹی ٹی ) نے روایتی ہتھیاروں کو ریگولیٹ کرنے میں صرف محدود کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انسانی، قانونی اور سلامتی کے تحفظات کی بنیاد پر اسلحے کی منتقلی کا جائزہ لینے پر زور دینے کے باوجودیہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ جدید ہتھیاروں سے غیر مستحکم علاقوں میں تنازعات بڑھ رہے ہیں اور یہاں تک کہ نسل کشی سمیت مظالم میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں، ایک ریاست ( بھارت ) کو جدید ہتھیاروں اور حساس ٹیکنالوجیز فراہم کی جا رہی ہیں ،اس حقیقت کے باوجود کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف مخالفانہ پالیسیاں اپنا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان، اپنی طرف سےجنوبی ایشیا میں ایک باتحمل سٹریٹجیک حکومت کے قیام کے لیے پرعزم ہے، جس میں روایتی طاقت کے توازن کا عنصر شامل ہے۔ سفیر گل قیصر نے واضح کیاکہ پاکستان نہ تو خطے میں اسلحے کی دوڑ میں شامل ہے اور نہ ہی اس کے فروغ کے حق میں ہے۔ انہوں نے اس کے اثرات کو سنبھالنے پر خصوصی توجہ دینے کے بجائے اسلحے کی تجارت کو فروغ دینے والے اسباب کو حل کرنے پر بھی زور دیا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ کنونشن آن سرٹین کنوینشنل ویپنز (سی سی ڈبلیو) کی کامیابی اس نازک توازن میں مضمر ہے جو انسانی ہمدردی اور ریاستوں کے جائز سیکورٹی مفادات کے درمیان برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان غیر ریاستی عناصر اور دہشت گردوں کی جانب سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلاتکے حصول اور استعمال کے امکان کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیتھل آٹونومس ویپن سسٹمز (لاز) پر کام، جسے ‘قاتل روبوٹس’ بھی کہا جاتا ہے، کو ایک نئے پروٹوکول کے ذریعے قانون اورسی سی ڈبلیو کے مقاصدکے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے بین الاقوامی قوانین تیار کرنے کے مقصد کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے جو بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے ساتھ تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے خود مختار ہتھیاروں کے نظام کو کنٹرول کرنے والے ممنوعات اور ضوابط کو بیان کرتا ہے۔

انہوں نے فوجی صلاحیتوں میں مصنوعی ذہانت اور خود مختار ہتھیاروں کے نظام کے استعمال سے متعلق وسیع تر خدشات کو دور کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل آئی ایچ ایل سے آگے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لئے فوری بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے