جرمنی ، حکمران اتحاد میں شامل تین جماعتوں میں سے ایک کی علیحدہ،حکومت اکثریت سے محروم ہو گئی ، قبل از وقت انتخابات کا امکان

برلن ۔7نومبر (اے پی پی):یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے ۔ جرمنی کی اتحادی حکومت میں شامل فری ڈیموکریٹک پارٹی کی اتحاد سے علیحدگی کے بعد حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہو گئی ہے اور جرمن چانسلر اولاف شلز نے آئندہ جنوری میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر نے اعلان کیا ہے اور ملک میں قبل از وقت نئے انتخابات …

برلن ۔7نومبر (اے پی پی):یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے ۔ جرمنی کی اتحادی حکومت میں شامل فری ڈیموکریٹک پارٹی کی اتحاد سے علیحدگی کے بعد حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہو گئی ہے اور جرمن چانسلر اولاف شلز نے آئندہ جنوری میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر نے اعلان کیا ہے اور ملک میں قبل از وقت نئے انتخابات کے انعقاد کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔

ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں اقتصادی امور پر اختلافات کے سبب جرمن چانسلر نے وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈنر جن کا تعلق فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی)سے تھا ، کو برطرف کر دیا تھا۔ اس برطرفی کے بعد ایف ڈی پی کے تمام وزراء کابینہ سے مستعفی ہو گئے اور پارٹی نے حکومت کی حمایت واپس لے لی جس کے بعد اولاف شلز کی حکومت کے لئے سیاسی بحران پیدا ہوگیا ۔جرمن چانسلر نے ایک بیان میں کہا کہ سابق وزیر خزانہ نے ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا اور اپنی پارٹی کے بنیادی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دی۔ایف ڈی پی کے پارلیمانی گروپ کے رہنما کرسٹیان لنڈنر نے برلن میں اعلان کیا کہ وہ 2021 کے اواخر میں تشکیل دیئے گئے تین جماعتوں پر مبنی اتحاد کو باضابطہ طور پر ختم کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چانسلر اولاف شلز کی قیادت میں مخلوط حکومت ان کی اپنی جماعت سوشل ڈیموکریٹس، ایف ڈی پی اور گرینز کے اتحاد پر مبنی تھی جو 2021 سے اقتدار میں تھا ۔ اس اتحاد کا نام ’’ٹریفک لائٹ‘‘ رکھا گیا تھا۔اس پیش رفت کے بعد اولاف شلز کی حکومت کو اب پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں رہی۔ چانسلر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 جنوری 2025 کو اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتے ہیں، جس سے مارچ تک قبل از وقت انتخابات کا راستہ بھی ہموار ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے جرمنی کے پارلیمانی انتخابات، جو 2025 کے موسم خزاں میں ہونا تھے، کے اب شیڈول سے چھ ماہ قبل مارچ 2025 میں ہونے کا امکان ہے۔

ٹریفک لائٹ اتحاد کے بحران نے جرمنی کے لئے شدید سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے اور ٹرمپ کی فتح کے چند گھنٹوں بعد ہی اس پیش رفت نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت اور اس کے سیاسی مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔دریں اثنا سابق وزیر خزانہ کرسٹیان لنڈنر نے چانسلر اولاف شلز پر الزام لگایا کہ وہ جرمنی کو غیر یقینی صورتحال کی طرف لے جا رہے تھے۔ جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ وہ کرسچن ڈیموکریٹس کے اپوزیشن لیڈر فریڈرک مرز سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ جرمن معیشت اور دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے فوری مشترکہ حل کا جائزہ لیا جا سکے۔ اور توقع ہے کہ اب اولاف شولس اپنے سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز کے ساتھ مل کر ایک اقلیتی حکومت کی قیادت کریں گے۔

تاہم انہیں قوانین کی منظوری کے لیے پارلیمانی اکثریت پر انحصار کرنا پڑے گا۔جرمن آئین کے مطابق قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ نہ تو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، بنڈسٹاگ کے اراکین کر سکتے ہیں اور نہ ہی چانسلر کے پاس اس کا کوئی اختیار ہے۔پارلیمنٹ کی جلد از جلد تحلیل بھی دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے ہی ہو سکتی ہے۔

پہلی صورت میں اگر چانسلر کے لئے کوئی بھی امیدوار مطلق پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کرتا، جس کے لیے 733 نشستوں والے ایوان میں کم از کم 367 ووٹ درکار ہوتے، تو جرمن صدر پارلیمان کو تحلیل کر سکتا ہے۔ وفاقی جمہوریہ جرمنی کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔دوسری صورت یہ ہے کہ چانسلر اس بات کی تصدیق کے لیے ایوان میں اعتماد کا ووٹ طلب کرے کہ آیا اسے ابھی بھی پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل ہے یا نہیں۔

اگر چانسلر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو وہ باضابطہ طور پر صدر کو 21 دنوں کے اندر پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد 60 دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ اس سے پہلے جرمنی میں تین بار اس طرح کے قبل از وقت انتخابات ہو چکے ہیں۔