مقبوضہ بیت المقدس۔8نومبر (اے پی پی):فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں توسیع کرنے والوں پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے۔اردو نیوز کے مطابق رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس نے یورپ کی سطح پرایسی پابندیوں کا پہلا نظام قائم …
مغربی کنارے کے اسرائیلی آبادکاروں پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہے ہیں، فرانس

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔8نومبر (اے پی پی):فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں توسیع کرنے والوں پر نئی پابندیاں لگانے پر غور کر رہا ہے۔اردو نیوز کے مطابق رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کے بعد فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس نے یورپ کی سطح پرایسی پابندیوں کا پہلا نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جن کا ہدف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہوں آبادکاری کی سرگرمیوں میں ملوث افراد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام دو مرتبہ فعال ہو چکا ہے اور ہم ان سرگرمیوں کو ہدف بنانے والے تیسری پابندیوں کے پیکج پر کام کر رہے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے اسرائیل ۔فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ آبادکاری کی سرگرمیاں اس سیاسی تناظر کے لیے خطرہ ہیں جو اسرائیل اور فلسطین کے لیے پائیدار امن کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
فلسطینی صدرسے ملاقات سے قبل فرانس کے وزیر خارجہ نے البیرہ کا دورہ کیا جہاں اسرائیلی آبادکاروں نے20 گاڑیوں کو آگ لگا ئی تھی اور جس سے قریبی عمارت کو نقصان پہنچا۔ البیرہ میں مقامی افراد اور مقامی حکام سے بات چیت کے بعد، جین نول باروٹ نے کہا کہ یہ حملہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک حصے میں ہوا جہاں 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینیوں کو سول اور سکیورٹی کنٹرول دونوں کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسند اور پُرتشدد آبادکاروں کے یہ حملے نہ صرف مکمل طور پر ناقابل معافی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں بلکہ یہ دو ریاستی حل کے تناظر کو کمزور کرتے ہیں۔اس موقع پررام اللہ اور البیرہ کی گورنر لیلیٰ غنام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبادکاروں کے حملے عالمی برادری کے سامنے ہو رہے ہیں۔انہوں نےبتایا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ کے دورے سے یہ مسئلہ اجاگر ہو گا۔ جمعرات کو بیت المقدس میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد انہیں غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی جنگوں کے خاتمے کی امید نظر آتی ہے۔








