غزہ۔10نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے غزہ کی شمالی پٹی میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے باعث خراب ہوتی صورتحال میں یہ خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہاں قحط پڑ جائے گا۔ گزشتہ ماہ اکتوبر کی 17 کو فیمائن …
فلسطینی علاقے غزہ کی شمالی پٹی میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
غزہ۔10نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے غزہ کی شمالی پٹی میں قحط کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے باعث خراب ہوتی صورتحال میں یہ خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہاں قحط پڑ جائے گا۔
گزشتہ ماہ اکتوبر کی 17 کو فیمائن ریویو کمیٹی نے تخمینہ لگایا گیا تھا کہ غزہ میں نومبر اور اپریل 2025 کے درمیان ’تباہ کن‘ غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے لوگوں کی تعداد تین لاکھ 45 ہزار تک پہنچ جائے گی جو وہاں کی آبادی کا 16 فیصد ہوگا۔انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کی درجہ بندی کی رپورٹ میں صورتحال کو پانچویں درجے تک کا بتایا گیا ہے جس کا مطلب بھوک اور غذا کی انتہائی کمی کی سطح کے باعث اموات ہوتا ہے۔
کمیٹی نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کے بعد غزہ کے شمال میں خوراک کے نظام کی تباہی، انسانی امداد میں کمی اور پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی نازک صورتحال کے باعث حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس لیے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان علاقوں میں غذائی قلت، غذائیت کی کمی، بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور چولہے میں جلائی جانے والی گیس کی قیمت میں اڑھائی ہزار فیصد، ڈیزل کی قیمت میں ایک ہزار 315 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ لکڑی کی قیمت ڈھائی سو فیصد بڑھی ہے۔ ضروری اشیا کی انتہائی بلند اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی خریداری یا بارٹر کرنے کے نظام کا مکمل خاتمہ ہو گیا ہے۔








