سیالکوٹ،دھان کے کاشتکاروں کو فصل کی باقیات زمین میں ملا نے کی ہدایت

سیالکوٹ۔21نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت سیالکوٹ نے دھان کے کاشتکاروں کو سموگ سے بچا ؤکے لئے فصل کی باقیات زمین میں ملا نے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد اس کی باقیات کوجلانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کریں۔ اس حوالے سے ایگری کلچر فیلڈ آفیسرمرکز کینٹ محکمہ زراعت سیالکوٹ میمونہ عزیزنے بتایا کہ دھان …

سیالکوٹ۔21نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت سیالکوٹ نے دھان کے کاشتکاروں کو سموگ سے بچا ؤکے لئے فصل کی باقیات زمین میں ملا نے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد اس کی باقیات کوجلانے کی بجائے انہیں زمین میں ملا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کریں۔

اس حوالے سے ایگری کلچر فیلڈ آفیسرمرکز کینٹ محکمہ زراعت سیالکوٹ میمونہ عزیزنے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کیلئے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا ئیں، اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار دھان کے مڈھوں کی تلفی کے سلسلے میں محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔دھان کی باقیا ت کوجلانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی زیادتی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری کا عمل رک جاتا ہے اور یہ حالت انسانی جانوں کے ساتھ فصلوں، باغات اور سبزیوں کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔

سموگ کی وجوہات میں ٹریفک اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں کے علاوہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا بھی شامل ہے۔اس ضمن میں دھان کی فصل ابھی برداشت سے کٹائی کی طرف جا رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں، دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔

 

مزید خبریں