دمشق میں ایک اجتماعی قبر میں ایک لاکھ لاشیں دفن ہیں، مزید اجتماعی قبریں بھی ہو سکتی ہیں،امریکی سماجی تنظیم کا انکشاف

دمشق ۔17دسمبر (اے پی پی):شام کی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت میں کام کرنے والی امریکی تنطیم کے سربراہ نے دارالحکومت دمشق کے قریب اجتماعی قبر کا انکشاف کیا ہے جس میں سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں مارے گئے کم از کم ایک لاکھ افراد کی لاشیں دفن ہیں۔شامی ایمرجنسی ٹاسک فورس کے سربراہ معاذ مصطفیٰ نے رائٹرز کو بتایا کہ دمشق سے 40 کلو میٹر دور واقع …

دمشق ۔17دسمبر (اے پی پی):شام کی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت میں کام کرنے والی امریکی تنطیم کے سربراہ نے دارالحکومت دمشق کے قریب اجتماعی قبر کا انکشاف کیا ہے جس میں سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں مارے گئے کم از کم ایک لاکھ افراد کی لاشیں دفن ہیں۔شامی ایمرجنسی ٹاسک فورس کے سربراہ معاذ مصطفیٰ نے رائٹرز کو بتایا کہ دمشق سے 40 کلو میٹر دور واقع القطیف شہر میں اجتماعی قبر ملی ہے جبکہ گزشتہ برسوں میں چار ایسی قبروں کی نشاندہی بھی کی جاچکی ۔

انہوں نے کہا کہ اجتماعی قبر میں لاشوں کی تعداد کے حوالے سے انتہائی محتاط اندازہ لگایا گیا ہے ، ان پانچ مقامات سے زیادہ جگہوں پر بھی اجتماعی قبریں موجود ہو سکتی ہیں۔

معاذ مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ شامی متاثرین کے علاوہ امریکی، برطانوی اور دیگر غیر ملکیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ایک اندازے کے مطابق 2011 میں بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کے بعد مکمل خانہ جنگیکے آغاز سے سینکڑوں کی تعداد میں شامی شہریوں کو ہلاک کیا گیا ۔

بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد پر شامی شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور بدنام زمانہ جیل نظام کے تحت بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے،تاہم بشار الاسد نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو شدت پسندوں کے طور پر پیش کیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ معاذ مصطفیٰ نے بتایا کہ تشدد سے مارے جانے والے شہریوں کی لاشیں ملٹری ہسپتالوں میں اکھٹی کی جاتی تھیں جہاں سے وہ اجتماعی قبر کے مقام پر پہنچائی جاتی تھیں اور اس کی ذمہ داری شامی ایئر فورس کی انٹیلی جنس برانچ کو سونپی گئی تھی ، دمشق کی میونسپل انتظامیہ بھی لاشوں کو اجتماعی قبر کے مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتی تھی۔

معاذ مصطفیٰ نے کہا کہ ہم نے اجتماعی قبروں پر کام کرنے والوں سے بات کی ہے جو شام سے بھاگ گئے تھے یا ہم نے انہیں بھاگنے میں مدد فراہم کی تھی، ہماری تنظیم نے بلڈوزر چلانے والے ان ڈرائیوروں سے بھی بات کی جنہوں نے حکومت کے احکامات کے مطابق کئی مرتبہ ان لاشوں پر بل ڈوزر پھیرا تھا تاکہ مزید کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔مصطفیٰ معاذ نے اجتماعی قبروں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کی غرض سے انہیں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شواہد کو مٹایا نہ جا سکے۔