ایران کو امریکا کے ساتھ جوہری سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے، سربراہ آئی اے ای اے

ڈیووس۔22جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ شرقِ اوسط میں ایک اور فوجی تنازعے میں گھسیٹے جانے سے بچ سکے۔العربیہ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم 2025 …

ڈیووس۔22جنوری (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں پر سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ شرقِ اوسط میں ایک اور فوجی تنازعے میں گھسیٹے جانے سے بچ سکے۔العربیہ کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم 2025 میں کہاکہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلہ کرنے سے پہلے ایک معاہدہ موجود تھا جس پر وہ عمل نہیں کرنا چاہتے تھے۔

اب ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم بلاشبہ جنگ کے علاوہ اس معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں۔ ہم مزید جنگیں نہیں چاہتے۔آئی اے ای اے کے سربراہ نے تصدیق کی کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہے۔ نومبر میں ایک سفارتی سرزنش کے جواب میں ایران کے انجینئروں نے دسمبر میں صلاحیت میں سات گنا اضافہ کیا جو تقریباً 34 کلوگرام (75 پاؤنڈ) ماہانہ ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم روس، چین اور یورپی ممالک کے ساتھ مشغول ہیں لیکن یہ سب کے لیے واضح ہے کہ امریکہ ناگزیر ہے۔

ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک مفاہمت تلاش کرنے کی ہے۔ اگلے چند ہفتوں کے لیے یہ ہمارا مشن ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ وہ چیز ہے جسے دوبارہ راستے پر لانے کی ضرورت ہے۔اور مزید کہا کہ وہ ٹرمپ حکومت سے "بہت جلد” ملنے کی امید رکھتے ہیں۔

واضح رہے ڈونلڈٹرمپ نے ساڑھے چھ سال قبل ایک جوہری معاہدہ منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت اسلامی جمہوریہ کو اس کی جوہری سرگرمیوں پر سخت پابندیوں کے بدلے میں امریکی پابندیوں میں ریلیف دیا گیا تھا۔ اس وقت ایران کا تقریباً بم کے درجے کا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نئی بلندیوں پر جا رہا ہے۔