اقوام متحدہ۔23جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ہیٹی میں خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہیٹی میں بنیادی طور پر دارالحکومت پورٹ او پرنس میں جاری جرائم پیشہ گروہوں کی پر تشدد کارروائیوں کے باعث جمہوری اداروں کی بحالی کےلئےسیاسی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ملک کی بگڑتی ہوئی …
ہیٹی میں خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے جرات مندانہ ایکشن پلان کی ضرورت ہے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔23جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ہیٹی میں خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہیٹی میں بنیادی طور پر دارالحکومت پورٹ او پرنس میں جاری جرائم پیشہ گروہوں کی پر تشدد کارروائیوں کے باعث جمہوری اداروں کی بحالی کےلئےسیاسی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کے اجلاس کو بتایا کہ ہیٹی کی صورتحال بدستور انتہائی خراب ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ ہیٹی ایک طویل سیاسی عدم استحکام، بگڑتی ہوئی سکیورٹی اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کی وجہ سے مزید تباہی سے دوچار ہوتا دکھائی دیتا ہے اور یہ تینوں پہلو آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہیٹی کی سیاسی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل طے کرے اور اس کے لوگوں میں امید پیدا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار سلامتی کے قیام اور انسانی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات میں ہیٹی کی قیادت اور شمولیت ضروری ہے۔ پاکستانی مندوب نے گینگز اور دیگر پرتشدد گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کو روکنے پر زور دیا ۔
انہوں نےاندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور علاقائی ممالک سے ہیٹی کے شہریوں کی ملک بدری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہیٹی میں سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیچیدہ امتزاج نے انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے جس کا نتیجہ ہیٹی میں خوراک کا بڑھتا ہوا عدم تحفظ اور بچوں کے لئے صحت اور تعلیم کی سہولیات کی کمی ہے۔ ہم خاص طور پر خواتین اور بچوں پر موجودہ صورتحال کے غیر متناسب اثرات سے پریشان ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کینیا، جمیکا، بہاماس، بیلیز اور گوئٹے مالا کی ہیٹی میں بڑھتے ہوئے تشدد سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حمایت یافتہ ملٹی نیشنل سکیورٹی سپورٹ مشن (ایم ایس ایس) میں خدمات کی فراہمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گوئٹے مالا سے 150 سکیورٹی اہلکاروں اور کینیا سے 200 اضافی فوجیوں کی حالیہ تعیناتی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
خطے کی بڑی طاقتوں سمیت علاقائی ممالک کو ہیٹی کو مدد فراہم کرنے اور ضروری مالی امداد فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ ایک ایسے مضبوط ،جامع اور اچھی طرح غور فکر کر کے تیار کئے گئے ایکشن پلان کی ضرورت ہے جو ہیٹی کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کا جواب دے سکے۔







