اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):پروفیسر ڈاکٹر حماد عمر ہیڈ انٹرنیشنل آفس کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر ناصر منصور قریشی سے ملاقات کی ،جس میں پاکستان میں علمی معیشت کو فروغ دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عمر نے روایتی طریقوں کے بجائے یونیورسٹیوں اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے، صنعت …
آئی سی سی آئی- کامسیٹس یونیورسٹی انٹرپرینیور شپ کے فروغ کیلئے تعاون پر رضامند

مزید خبریں
اسلام آباد۔23جنوری (اے پی پی):پروفیسر ڈاکٹر حماد عمر ہیڈ انٹرنیشنل آفس کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر ناصر منصور قریشی سے ملاقات کی ،جس میں پاکستان میں علمی معیشت کو فروغ دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عمر نے روایتی طریقوں کے بجائے یونیورسٹیوں اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط روابط کے ذریعے، صنعت کو فروغ دینے پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ڈاکٹر عمر نے کہا کہ پاکستان کی معاشی خوشحالی نئی نسل کی جدید تعلیم اور تربیت میں مضمر ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمتیں تلاش کرنے کے بجائے انہیں تخلیق کریں۔
انہوں نے اس اہم کردار پر روشنی ڈالی جو یونیورسٹیاں، خاص طور پر کامسیٹس اس سلسلے میں ادا کر سکتی ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کامسیٹس یونیورسٹی میں گیارہ سو سے زیادہ پی ایچ ڈی ماہرین جدید تحقیق میں مصروف ہیں جن میں سے زیادہ تر صنعت کی ترقی کو آگے بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ اس تحقیق کو موثر طریقے سے عملی اور جدید ایپلی کیشنز میں منتقل کیا جانا چاہیے جس کے لیے کاروباری شعبے کے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ڈاکٹر عمر نے کاروباری برادری (جس کی نمائندگی آئی سی سی آئی کرتی ہے) پر زور دیا کہ وہ مارکیٹ کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے والی مصنوعات تیار کرنے کے لیے تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کامسیٹس یونیورسٹی آئی سی سی آئی کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تیار کی جانے والی تحقیق صنعتوں کی ضروریات کے مطابق ہو جو اختراعی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں ممد و معاون ثابت ہو۔صدر ناصر منصور قریشی نے ڈاکٹر عمر کے وژن کا خیرمقدم کرتے ہوئے تعلیمی اور کاروباری شعبوں کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے آئی سی سی آئی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چیمبر پہلے ہی صنعت اور اکیڈمی کے روابط کو فروغ دینے کے لیے خطے کی متعدد یونیورسٹیوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یوز) پر دستخط کر چکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کا تعاون علمی تحقیق اور عملی کاروباری ایپلی کیشنز کے فروغ کے لیے ضروری ہے تاکہ معاشی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ صدر ناصر قریشی نے آئی سی سی آئی کے مستقبل کے اقدامات کا خاکہ پیش کیا کہ جس میں یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل گریجویٹس کے درمیان ان کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مقابلوں کا انعقاد شامل ہے اور یہ کہ نوجوانوں میں جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے فاتحین کو نقد انعامات دیے جائیں گے۔ انہوں نے ڈاکٹر عمر کو یہ بھی یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی، کامسیٹس یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے اور دونوں اداروں کے درمیان گہری شراکت داری کو آگے بڑھایا جا سکے۔
صدر قریشی نے آئی سی سی آئی کے پورٹ فولیو اور ایگزیکٹو ممبران کے ساتھ ذاتی طور پر کامسیٹس یونیورسٹی کا دورہ کرنے کا وعدہ کیا تاکہ یونیورسٹی کی تحقیقی سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے اور تعاون کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس طرح کی کوششیں کاروباری برادری اور یونیورسٹیوں دونوں کے لیے ’’جیت‘‘ ثابت ہوں گی جو بالآخر قومی اقتصادی خوشحالی کے وسیع تر مقصد میں حصہ ڈالیں گی۔








