وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 23 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کی میڈیا کے حوالہ سے سفارش پر اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی بی سی نے اتفاق رائے سے کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، آزادی اظہار رائے اور سوشل میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگا رہے لیکن کوئی بھی جمہوری ملک …

اسلام آباد ۔ 23 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کی میڈیا کے حوالہ سے سفارش پر اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی بی سی نے اتفاق رائے سے کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے، آزادی اظہار رائے اور سوشل میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگا رہے لیکن کوئی بھی جمہوری ملک سوشل میڈیا کو مادر پدر آزادی نہیں دے سکتا، قانون اور آئین کے مطابق سوشل میڈیا کے حوالہ سے ریڈ لائن کھینچیں گے، سوشل میڈیا سے متعلق ایشوز کو حل کرنے کیلئے تمام سروس پرووائیڈرز سے بات کی جائے گی کہ وہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں، سوشل میڈیا کے ایس او پی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے بنانے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھوں گا، کچھ لوگ بغیر کسی وجہ سے سوشل میڈیا چاچے مامے بن رہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کو ایک دفعہ ضرور دیکھ لیں، کامران کیانی سمیت بیرون ملک موجود کسی بھی ملزم کے انٹرپول قانون کے مطابق ریڈ وارنٹ جاری کریں گے، پاک فوج کے حوالہ سے تضحیک آمیز مواد اپ لوڈ کرنے پر اب تک 27 آئی ڈیز کی شناخت ہوئی ہے، اس معاملہ میں شامل افراد کے انٹرویوز ایف آئی اے کر رہی ہے، جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ منگل کو پنجاب ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ڈان لیکس کے حوالہ سے کمیٹی کی رپورٹ چند روز قبل موصول ہوئی جس پر وزارت داخلہ نے نوٹفیکیشن جاری کیا، کمیٹی کی آخری سفارش کے علاوہ تمام سفارشات پر عملدرآمد ہو چکا تھا، آخری سفارش جس میں میڈیا کیلئے کوڈ آف کنڈکٹ بنانے کا کہا گیا تھا اس پر عملدرآمد کیلئے گذشتہ روز پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے ارکان سے ملاقات ہوئی اور آج سی پی این ای، اے پی این ایس اور سینئر صحافیوں سے اس حوالہ سے بات ہوئی ہے جس میں حکومت اور میڈیا کے تعلقات، میڈیا کے ایشوز، پیشہ وارانہ پہلو، ایڈمنسٹریٹو اور سیکورٹی کے امور پر بات چیت ہوئی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ون پوائنٹ ایجنڈا پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

Leave a Reply