مقبوضہ بیت المقدس۔25فروری (اے پی پی):اسرائیل نے مغربی کنارے میں واقع پناہ گزینوں کے جنین کیمپ کومسمار کرکے اس جگہ سڑکوں کی تعمیر شروع کردی ہے جس سے فلسطینیوں میں ایک بار پھر مستقل نقل مکانی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے ایک دن بعد ہی اسرائیل نے مغربی کنارے میں آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں …
جنین کیمپ میں اسرائیلی آپریشن، مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو مستقل نقل مکانی کا خدشہ

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔25فروری (اے پی پی):اسرائیل نے مغربی کنارے میں واقع پناہ گزینوں کے جنین کیمپ کومسمار کرکے اس جگہ سڑکوں کی تعمیر شروع کردی ہے جس سے فلسطینیوں میں ایک بار پھر مستقل نقل مکانی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اردو نیوز کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کے ایک دن بعد ہی اسرائیل نے مغربی کنارے میں آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں جنین اور قریبی شہر طولکرم سے 40 ہزار فلسطینی اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔
جنین میونسپلٹی کے ترجمان بشیر مطاحن نے شمالی غزہ کے پناہ گزین کیمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنین میں وہی سب دہرایا جا رہا ہے جو جبالیہ میں ہوا تھا،غزہ میں جنگ شروع ہونے کے چند ہفتوں بعد اسرائیلی فوج نے الجبالیہ پناہ گزین کیمپ کو خالی کروا دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ12 بلڈوزرز کی مدد سے گھروں اور انفراسٹرکچر کو مسمار کیا جا رہا ہے جہاں 1948 کی جنگ کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے فلسطینی کئی سالوں سے پناہ لیے ہوئے تھے۔
بشیر مطاحن نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی انجینئرنگ ٹیموں کو کام کرتے اور طویل قیام کی تیاریاں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اسرائیلی تھنک ٹینک سے وابستہ سابق انٹیلی جنس اہلکار مائیکل ملشٹین کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے دو کیمپوں نور شمس اور جنین کو آبادی سے خالی کروایا جا رہا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ وسیع سٹریٹجی کیا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔








