نیویارک ۔26فروری (اے پی پی):کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے منسلک کالج نے طلبہ کو فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر کالج سے نکال دیا ہے۔العربیہ کے مطابق مظاہرہ کرنے والے گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ جنگ کی مخالفت اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو تعلیم کے حق سے محروم کیا گیا ہے، جبکہ کالج انتظامیہ کا کہنا …
کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے منسلک کالج نے طلبہ کو فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر کالج سے نکال دیا

مزید خبریں
نیویارک ۔26فروری (اے پی پی):کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے منسلک کالج نے طلبہ کو فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر کالج سے نکال دیا ہے۔العربیہ کے مطابق مظاہرہ کرنے والے گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ جنگ کی مخالفت اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو تعلیم کے حق سے محروم کیا گیا ہے، جبکہ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کالج کے کلاس رومز میں غیر منظور شدہ خلل ڈالنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے انسانی حقوق سے متعلق گروپ نے طلبہ کی اس برطرفی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی اضافہ ہورہا ہے، کیونکہ یہ طلبہ یونیورسٹی کی طرف سے اسرائیلی جنگی مشینری میں سرمایہ کاری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔یونیورسٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ جدید اسرائیلی تاریخ کے موضوع پر ایک کلاس میں خلل ڈالا گیا تھا اور کلاس میں ایسا مواد تقسیم کیا گیا تھا جس میں متشددانہ تصاویر بنائی گئی تھیں۔
یونیورسٹی نے بیان میں کہا کہ اس نے اس واقعے میں ملوث دو طلبہ کو ریفر کیا تھا۔ جو یونیورسٹی سے ملحق برنارڈ کالج سے متعلق تھے کہ انہوں نے اپنے مادر علمی کے نظم و ضبط کی خلاف ورذی کی۔واضح رہے برنارڈ کالج کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو نکالنا ہمیشہ ایک غیر معمولی اقدام ہوتا ہے لیکن یہ ہمارا تہیہ ہے کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور تعلیمی ماحول اور ساکھ پر اثر نہیں آنے دیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ میں 48ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا ہے جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو بےگھر کر دیا ہے۔ اس پر امریکی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ میں بھی سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ صدر نے آتے ہی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے مخالف طلبہ کے خلاف پالیسی سخت کر دی ہے۔








