جنیوا۔21مارچ (اے پی پی):گزشتہ سال میں دنیا کے تمام 19 گلیشیئر والے خطوں کو مسلسل تیسرے سال بڑے پیمانے پر گلیشیئر پگھلنےسے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ گلیشیئرز کو بچانا اب دنیا کی "بقا" کا معاملہ بن چکا ہے۔ جمعہ کو اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم ویدر، کلائمیٹ اینڈ واٹر ایجنسی( ڈبلیو ایم او) کے سربراہ سیلسٹی ساؤلو نے پہلے عالمی یوم گلیشیئرز …
گزشتہ سال کے دوران گلیشئرز کا حجم کم ہو ا، ڈبلیو ایم او

مزید خبریں
جنیوا۔21مارچ (اے پی پی):گزشتہ سال میں دنیا کے تمام 19 گلیشیئر والے خطوں کو مسلسل تیسرے سال بڑے پیمانے پر گلیشیئر پگھلنےسے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ گلیشیئرز کو بچانا اب دنیا کی "بقا” کا معاملہ بن چکا ہے۔
جمعہ کو اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم ویدر، کلائمیٹ اینڈ واٹر ایجنسی( ڈبلیو ایم او) کے سربراہ سیلسٹی ساؤلو نے پہلے عالمی یوم گلیشیئرز کے موقع پر کہا کہ گزشتہ چھ سال میں سے پانچ سال میں بہت زیادہ تیزی سے گلیشیئر اپنے حجم میں سکڑ ےہیں۔ سیلسٹی ساؤلو نے کہا کہ گلیشیئرز کا تحفظ اب صرف ایک ماحولیاتی، اقتصادی اور سماجی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ بقا کا معاملہ ہے، گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا کی براعظمی برفانی چادروں کے علاوہ دنیا بھر میں 275,000 سے زیادہ گلیشیئرز تقریباً 700,000 مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔
ڈبلیو ایم او نے مزید کہا کہ 2024 ہائیڈروولوجیکل سال لگاتار تیسرا سال تھا جس میں تمام 19 گلیشیئرز والے علاقوں کو بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایجنسی نے سوئس بیس ورلڈ گلیشیر مانیٹرنگ سروس (ڈبلیو جی ایم ایس ) کے نئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024میں ایک ساتھ، گلیشیئرز کے اوزان میں 450 بلین ٹن کی کمی آئی۔ یہ ریکارڈ پر چوتھا بدترین سال تھا ۔








