24.4 C
Islamabad
پیر, اپریل 7, 2025
ہومقومی خبریںنفرت،گالم گلوچ اور جلائو گھیرائو کی سیاست پر نہیں بلکہ ترقی کی...

نفرت،گالم گلوچ اور جلائو گھیرائو کی سیاست پر نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، اڑان پاکستان پروگرام سے قومی معیشت کو ترقی دیں گے، حکومت نے دن رات محنت کر کے بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری

- Advertisement -

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان پروگرام سے قومی معیشت کو ترقی دیں گے، نفرت،گالم گلوچ اور جلائو گھیرائو کی سیاست پر نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت کی کرپشن کی نئی نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں، باچا خان یونیورسٹی میں بوگس بورڈ بنایا گیا ، سینکڑوں غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں، خیبر پختونخوا میں بلین سونامی ٹری کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، ہماری حکومت ای گورننس اورڈ یجیٹلائزیشن ،عوام کو ریلیف دینے کی جانب بڑھ رہی ہے، تمام سرکاری ٹھیکے ای پورٹل پر منتقل کر دیئے گئے،کسانوں کو سستے ٹریکٹر اور نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کئے،دوسری جانب ایک صوبائی حکومت اپنے نوجوان طبقہ کو جلائو گھیرائو سکھا رہی ہے، حکومت نے دن رات محنت کر کے بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے،معاشی استحکام سے غیر ملکی سرمایہ کاری ، کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گا ۔ ان خیالات کا انہوں نے ہفتہ کو یہاں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی اس وقت گھنٹوں اور دنوں میں ملک دیوالیہ کی باتیں ہو رہی تھیں، آج ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، سیاسی اور معاشی استحکام میں توازن ہے، اس عمل کیلئے حکومت کی دن رات کی کوششیں کار فرما ہیں۔ ہماری جماعت واحد جماعت ہے جس نے ہمیشہ ڈلیور کیا اور وزیراعظم کی قیادت میں صرف ماہ رمضان میں وفاقی دارالحکومت میں 4 ملین خاندانوں کو ڈیجیٹل کیش کی منتقلی کی گئی ۔ اس کے علاوہ وزیراعلی پنجاب کی طرف سے 3 ملین سے زائد لوگوں کو 10 ہزار روپے فی خاندان راشن دیا گیا۔ وفاق اور پنجاب میں کمیٹیاں بنائی گئیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ عوام کو ریلیف ملے اور وزرا ان کمیٹیوں کی نگرانی کر رہے تھے ، جب 2013 میں ہمیں حکومت ملی اس وقت سب سے بڑا بحران توانائی کا تھا، 22 ، 22 گھنٹے لوڈ شیڈنگ تھی، دن رات محنت کر کے ہزاروں میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر کے پاکستانی عوام کے سب سے بڑے اس بڑے بحران کو حل کیا، دوسرے مرحلے میں سی پیک کی بحالی اور گھریلو صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی تھی لیکن 2017 میں تسلسل ٹوٹ گیا

- Advertisement -

جس کی وجہ سے سی پیک بند ہوگیا، کاروبار ، بزنس ، انفراسٹرکچر مضبوط ہونے کے بجائے کمزور پڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت دوبارہ ملی تو اس وقت ہر آنے والے دن میں سب سے بڑی مشکل بجلی کے بلوں کی تھی، ہر آنے والے دن کے ساتھ گردشی قرض بڑھتا جا رہا تھا، ماضی کے ہر سال کے گردشی قرض کے اضافے کا بوجھ تھا، لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دن رات کی کاوشوں کی بدولت 400 ملین کا گردشی قرض کا ماضی کا بوجھ ختم کیا اور دن رات محنت کی اور گالم گلوچ، جلائو گھیرائو کی بات نہیں کی، سول نافرمانی نہیں کی اور اسی دن رات کی محنت کی وجہ سے 7.69 روپے فی یونٹ صنعتی صارفین کے لئے بجلی کی قیمت کم کردی گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا ریلیف ہے جس کے ثمرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل تسلسل کا نتیجہ ہے ، پہلی سیڑھی کے بعد چوتھی سیڑھی نہیں آتی، پہلے 200 یونٹ کے صارفین کو ریلیف دیا، ماضی میں حکومت ہاتھ پائوں باندھ کر ملک کو دیوالیہ کے قریب چھوڑ گئی تھی ، لہو لہان کر کے پوچھتے تھے کہ یہ خون کیوں نکل رہا ہے، ہم نے ہر مرحلے کو عبور کیا اور عوام کو ریلیف دیا اس کے بعد مزید ریلیف بھی آئیں گے۔

بیرسٹر دانیال نے کہا کہ کوئی ایسا مہینہ نہیں جس میں وفاقی حکومت ہو یا پنجاب حکومت جس نے ریلیف نہیں دیا جبکہ ایک صوبے میں نوجوانوں کو اکسایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ماضی میں لوگ سول نافرمانی ، جلائو ، گھیرائو کی بات کر رہے تھے اور اپنی افواج کے خلاف باتیں کر رہے تھے اس وقت بھی ہم سر جھکا کر ملک کی خدمت میں مصروف رہے، ہم نے ڈیلیور کر کے روڈ میپ بنایا ہے، کوئی بھی ملک حکمت عملی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، ہم نے اڑان پاکستان کا پلان بنایا اور جب ہم حکومت مکمل کریں گے ملک کو ایک ٹریلین کی معیشت بنا کر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ روڈ میپ کوئی ہوائی روڈ میپ نہیں ہے یہ وہ روڈ میپ ہے جس کی تصدیق آئی ایم ایف ، بلوم برگ، اورپرائس وائر کوپر کے سروے نتائج بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کے شعبہ میں بہتری لائے، سکول سے باہر بچوں کو سکول لانے پر محنت کی اورمزید کام کر رہے ہیں، جو لوگ تنقید برائے تنقید کرتے ہیں ان کی کرپشن کی اپنی کہانیاں ہمارے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوابی یونیورسٹی میں 33 جعلی ڈگریوں کا مسئلہ ہو، 56 غیر قانونی بھرتیوں کی بات ہو، یہ کہانیاں آئے روز سامنے آ تی ہیں، زرعی یونیورسٹی میں 200 سے زائد غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں، باچا خان یونیورسٹی میں کرپشن کی داستانیں بھری پڑی ہیں، کے پی کے میں احتساب کمیشن کو تالے لگا دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شفافیت، ای گورننس، ڈیجیٹلائزیشن لے کر آئے، ٹھیکے ای پورٹل پر کئے تاکہ شفافیت آئے، 987 ملین روپے کے منصوبے شروع ہوئے، 13500 لوگ رجسٹر ہوئے، عوامی بہبود کے دیگر پروگرام جن میں کسان کارڈ، ٹریکٹر سکیم، صحت کے شعبہ کے اقدامات اور امراض قلب کے شعبوں میں علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، انوائرمنٹ پروگرام کے تحت شجرکاری کی گئی ہے، غریب سے چھت کا وعدہ کیا تو اپنا گھر اپنی چھت پروگرام دیا، 1.5 ملین لوگوں کو رجسٹر کیا جنہیں اب گھروں کی چابیاں مل رہی ہیں جبکہ بلین ٹری سونامی کی کرپشن کی داستانیں کے پی کے میں زبان زد عام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 20 فیصد بھی درخت نہیں لگے اورخودرودرختوں کو بھی ٹیگ لگاتے رہے ، کرپشن کے پیسے پاکستان اور اس کے اداروں کو بدنام کر نے اور کمزور کرنے پر خرچ کئے گئے، مساجد کے نام پر بھی کرپشن کر کے پیسے ملک کو بدنام کرنے کیلئے سوشل میڈیا مہمات پر لگائے گئے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت اپنی کاوشوں میں لگی ہوئی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز دن رات کوشاں ہیں ۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر جو ختم ہو رہے تھے وہ بہتر ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب معصوم شہریوں اور تارکین وطن کو سول نافرمانی پر اکسایا جا تارہا ،

تارکین وطن سے کہا گیا کہ پاکستان پیسہ نہ بھیجیں لیکن عوام نے اسے بری طرح مسترد کردیا ۔آج عوام ان کے نفرت کے بیانیہ کو اٹھانے کو تیار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر بہتری کی طرف جا رہے ہیں، کاروباری شعبہ کا اعتماد بڑھ رہا ہے، تجارت میں بہتری آرہی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آگیا ہے، عالمی درجہ بندی کے ادارے آج پاکستان کی معاشی ترقی کا اعتراف کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ 65 فیصدشرح نموکو ظاہر کرتی ہے اور اسے ایشیا کی صف اول کی پرفارمر مارکیٹ قرار دیا جاتاہے۔ ٹیکس دہندگان میں دوگنا اضافہ کیا ہے اور 1.5 ارب روپے کا ریونیو نئے فائلرز کی وجہ سے اکٹھا ہوا۔ آج بجلی کی قیمت میں جو ریلیف دیا گیا ہے وہ معاشی استحکام کی علامت ہے، اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ، انفراسٹرکچر ، کاروباری شعبوں میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں، نئی نسل کو بہتر ملک ملے گا، یہ بچے ہی اس ملک کا مستقبل ہیں اور آئی ٹی کے شعبہ میں یہ بچے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کریں گے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=578742

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں