امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے، بھارتی تسلط سے آزادی اورحق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی ۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا بیان

امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے، بھارتی تسلط سے آزادی اورحق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا بیان اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے، بھارتی تسلط سے آزادی اورحق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر …

امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے، بھارتی تسلط سے آزادی اورحق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا بیان

اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے، بھارتی تسلط سے آزادی اورحق خودارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی۔ لگتا ہے امریکہ کے نزدیک مصعوم کشمیریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں۔ منگل کو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میںوزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ یہ بات انتہائی قابل تشویش ہے کہ امریکی انتظامیہ ہندوستان کی زبان بولنے لگی ہے جو نہ صرف کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے بلکہ روز اول سے حق خود ارادیت کی جائز اور منصفانہ تحریک کو دبانے اور آزادی کی کاوشوں کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور جس کے غاصبانہ طرز عمل پر ہر بااصول اور باضمیر قوم کو تشویش ہونی چاہیے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کی وائٹ ہاوس یاترا کے بعد امریکی حکومت کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے نزدیک معصوم کشمریوں کے خون کی کوئی اہمیت نہیں۔ لگتا یوں ہے کہ شاید انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کا کشمیر میں اطلاق نہیں ہوتا اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی اور معصوموں کے خون کی ہولی کھیلے جانے جیسے سنگین جرائم کو بھی فراموش کیا جا سکتا ہے، بد ترین ریاستی دہشت گردی میں ملوث حکومت کے کردار کو دانستہ طور پر فراموش کرنے سے جہاں انصاف ، اقدار اور بین الاقوامی اصولوں کو ٹھیس پہنچتی ہے وہاں انسانی اور جمہوری حقوق کی علمبردار طاقتوں کے دہرے معیار کی بھی قلعی کھلتی ہے۔

Leave a Reply